میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ڈپریشن کے خطرے سے منسلک، تحقیق

نئی تحقیق میں میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال اور ڈپریشن کے خطرے میں اضافے کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، جبکہ کافی کے استعمال سے ڈپریشن کے خطرے میں کمی دیکھی گئی۔

جرنل ’ڈپریشن اینڈ اینگزائٹی‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں 22 ممالک سے تعلق رکھنے والے 20 لاکھ سے زائد افراد پر کی گئی 59 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق چینی سے بنے مشروبات، جن میں سوڈا اور سافٹ ڈرنکس شامل ہیں، زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 18 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔

اس کے برعکس کافی پینے کی عادت رکھنے والے افراد میں ڈپریشن کے خطرے میں 13 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

تاہم محققین کے مطابق کافی کے استعمال کا یہ تعلق صرف ڈپریشن کے حوالے سے سامنے آیا، جبکہ انزائٹی یا ذہنی تناؤ کے خطرے میں نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق زیادہ مقدار میں چینی کا استعمال جسم میں تناؤ سے متعلق ہارمون کورٹیسول کے افعال کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ تکسیدی تناؤ بھی ڈپریشن کے خطرے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ میٹھے والی غذاؤں کے استعمال سے جسم میں سی ری ایکٹو پروٹین (CRP) کی سطح بڑھ سکتی ہے، جو جسم میں ورم اور تکسیدی تناؤ کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی کیفیت ہے جس میں مسلسل اداسی، ناامیدی اور روزمرہ سرگرمیوں میں دلچسپی کم ہونے جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات متعدد ہوسکتی ہیں اور صرف غذا کو اس کا واحد سبب قرار نہیں دیا جاسکتا۔

نوٹ: یہ تحقیق مشروبات کے استعمال اور ڈپریشن کے خطرے کے درمیان تعلق ظاہر کرتی ہے، اسے براہِ راست وجہ اور نتیجے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں