معدے اور دماغ کے درمیان اہم تعلق دریافت

سائنسدانوں نے معدے میں موجود بیکٹیریا اور دماغی کیمسٹری کے درمیان اہم تعلق دریافت کیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ معدہ دماغی افعال میں پہلے سے تصور کیے جانے سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انسانی معدے میں موجود بیکٹیریا دماغ میں پائے جانے والے اہم کیمیکل میسنجرز کی سطح سے منسلک ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق معدے میں موجود بیکٹیریا میں ایسے میٹابولک راستے پائے گئے جو ان مرکبات کی تیاری اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل میں کردار ادا کرتے ہیں، جن کا تعلق دماغ کے مخصوص حصوں میں GABA اور Glutamate کی سطح سے ہے۔

GABA اور Glutamate دماغ کے اہم کیمیکل میسنجرز ہیں جو دماغی سرگرمیوں میں ایک دوسرے کے توازن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

61 خواتین پر تحقیق

تحقیق میں 17 سے 25 سال کی عمر کی 61 صحت مند خواتین کو شامل کیا گیا۔

محققین نے جدید دماغی امیجنگ تکنیک کے ذریعے دماغ کے تین مختلف حصوں میں GABA اور Glutamate کی سطح کا جائزہ لیا، جبکہ فضلے کے نمونوں کے ذریعے معدے میں موجود بیکٹیریا کی جینیاتی اور میٹابولک صلاحیتوں کا بھی تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ معدے میں موجود بیکٹیریا اور دماغی کیمسٹری کے درمیان تعلق دماغ کے تمام حصوں میں یکساں نہیں تھا، بلکہ مختلف بیکٹیریا کے میٹابولک راستے دماغ کے مختلف حصوں میں کیمیکلز کی سطح سے منسلک تھے۔

محققین کے مطابق جانوروں پر ہونے والی سابقہ تحقیقات سے معدے میں موجود بیکٹیریا اور دماغی کیمسٹری کے درمیان تعلق کے شواہد ملتے رہے ہیں، تاہم انسانوں میں اس تعلق کا مشاہدہ اور مختلف دماغی خطوں میں اس کے مختلف انداز میں سامنے آنا اہم پیش رفت ہے۔

انزائٹی، ڈپریشن اور نیند سے تعلق

تحقیق میں مخصوص بیکٹیریا کے میٹابولک راستوں اور انزائٹی، ڈپریشن کی علامات اور نیند کے معیار کے درمیان بھی تعلق دریافت کیا گیا۔

نتائج کے مطابق GABA سے منسلک بیکٹیریا سماجی انزائٹی سے وابستہ پائے گئے، جبکہ بعض دیگر بیکٹیریا کے راستوں کا تعلق ڈپریشن کی علامات اور سماجی انزائٹی سے تھا۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان نتائج کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ تحقیق میں بیکٹیریا اور دماغی کیمسٹری کے درمیان تعلق تو سامنے آیا ہے، لیکن اس تعلق میں سبب اور اثر کا تعین نہیں ہوسکا۔

محققین کے مطابق اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Molecular Psychiatry میں شائع ہوئے۔

دماغ کس طرح معدے کے جرثوموں کے سگنلز محسوس کرتا ہے؟

یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب معدے اور دماغ کے درمیان رابطے پر دیگر تحقیقات بھی جاری ہیں۔

اگست 2025 میں امریکا کی Duke University School of Medicine کی ایک تحقیق میں ایک ایسے نظام کی نشاندہی کی گئی تھا جس کے ذریعے دماغ معدے میں موجود جرثوموں کے سگنلز پر فوری ردعمل ظاہر کرسکتا ہے۔

محققین نے اس نظام کو Neurobiotic Sensor کا نام دیا۔

تحقیق کے مطابق یہ نظام Neuropods نامی خلیات میں موجود ہوتا ہے، جو بڑی آنت (colon) میں پائے جاتے ہیں۔ یہ خلیات مخصوص پروٹین کو شناخت کرکے اعصابی نظام کے ذریعے دماغ کی جانب تیز رفتار سگنلز بھیج سکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس عمل کا تعلق کھانے کی اشتہا کو کم کرنے والے سگنلز سے بھی ہوسکتا ہے۔
بیکٹیریا کے پروٹین کا کردار

تحقیق کے مطابق اس نظام میں Flagellin نامی پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہے، جو بعض بیکٹیریا کے فلیجیلا (flagella) میں موجود ہوتا ہے۔

جب کھانا معدے اور آنتوں کے نظام میں پہنچتا ہے تو بعض بیکٹیریا یہ پروٹین خارج کرتے ہیں۔ نیوروپوڈز اس پروٹین کو TLR5 نامی ریسیپٹر کی مدد سے شناخت کرتے ہیں اور اعصاب کے ذریعے دماغ تک سگنلز بھیجتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہ عمل اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ جسم معدے میں موجود جرثوموں کی سرگرمیوں کو تقریباً فوری طور پر محسوس کرسکتا ہے اور ان معلومات کو دماغ تک پہنچا سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان نظاموں کی مزید سمجھ بوجھ سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ معدے کے جرثومے انسانی رویوں، خوراک، اشتہا اور مزاج جیسے عوامل سے کس طرح منسلک ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں