انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر پھر مہنگا

کراچی: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی روپے کے مقابلے میں گزشتہ 2 روز سے جاری گراوٹ کا سلسلہ کاروباری ہفتے کے تیسرے دن ٹوٹ گیا۔

بدھ کے روز کاروبار کا آغاز ہوا تو ابتدائی طور پر انٹربینک میں ڈالر روپے کے مقابلے میں مضبوط ہوا اور اس کی قدر میں 6 پیسے کا اضافہ ہوا، تاہم بعد میں ڈالر کی قیمت 2.06 روپے بڑھ کر 277.50 روپے کی سطح پر آ گئی۔

بعد ازاں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید بڑھ گئی اور دوپہر تک 2.56 روپے اضافے کے ساتھ ڈالر278 روپے کا ہو گیا۔ دریں اثنا اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر ایک روپے کا اضافہ کے ساتھ 280 روپے کا ہوگیا۔

واضح رہے کہ رواں کاروباری ہفتے کے پہلے اور دوسرے دن (پیر اور منگل) روپے کے مقابلے میں ڈالر تیزی کے ساتھ اپنی قدر غیر معمولی کھو بیٹھا تھا۔ گزشتہ روز ڈالر کی انٹربینک مارکیٹ میں قیمت مجموعی طور پر 10.55 روپے کم ہوئی تھی ، جس سے ڈالر 275.44 روپے کی سطح پر آ گیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ دو روز کے دوران اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت مجموعی طور پر 11 روپے کم ہوکر 279 روپے پر پہنچ گئی۔

سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کے بعد ایک ہزار روپے کا اضافہ

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ہزار روپے اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 6 ہزار روپے ہے۔

اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 858 روپے اضافے سے ایک لاکھ 76 ہزار 612 روپے ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی صرافہ بازار میں سونے کا بھاؤ ایک ڈالر کم ہو کر ایک ہزار 928 ڈالر فی اونس ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے کام مکمل کرلیا، اسحاق ڈار

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہماری ٹیم نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے کام مکمل کرلیا ہے۔

ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام مکمل ہوجائے، 30جون تک آئی ایم ایف پروگرام ختم ہوجائےگا، امید ہےموجودہ صورتحال سےبھی ڈیل کریں گے، پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرےگا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان چیلنجزسےگزرہا ہے2017میں پاکستان دنیا کی24ویں بڑی معیشت تھااوراب پاکستان47ویں نمبرپرچلا گیاہےہماری معیشت تیزی سےبہتری کی جانب گامزن ہے، ہم نےمل کرپاکستان کودوبارہ24 ویں معیشت بناناہے۔

انہوں نےکہا چینی بینکوں نے دو ارب ڈالرہمیں واپس کردیئےاورہم نےساڑھے پانچ ارب ڈالرکمرشل بینکوں کوواپس کئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نظرثانی بہت پہلے ہوجانی چاہیےتھی ہماری ٹیم نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے کام مکمل کرلیا ہے کوشش کررہےہیں آئی ایم ایف پروگرام مکمل ہوجائے30جون تک آئی ایم ایف پروگرام ختم ہوجائےگا۔

پاکستان اور روس کےدرمیان براہ راست کارگو سروس کا آغاز

کراچی: پاکستان اور روس کے درمیان براہ راست کارگو سروس شروع ہونے سے تجاتی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے، پہلا روسی کارگو بحری جہاز سینٹ پیٹرز برگ کی بندرگاہ سے 450کنٹینرز کے ساتھ براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔

روس کے ساتھ سمندری راستے سے براہ راست کارگو سروس کا آغاز ہونے سے پاکستان اور روس کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 2.5ارب ڈالر تک وسیع ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

پاک شاہین پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس کی بندر گاہ سینٹ پیٹرز برگ سے پہلا روسی کارگو جہاز 450کنٹینرلے کر براہ راست 25 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ اس طرح سے پاکستان کے برآمدات کنندگان کے لیے روس سے سمندری تجارت کی بڑی سہولت کا آغاز ہوجائے گا۔

براہ راست سمندری سروس شروع ہونے سے روس سے کارگو صرف 18 دن میں پاکستان کی بندر گاہ پہنچ جائے گا۔ اس سے قبل روس سے آنے والے جہاز کو ایک مہینہ لگ جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ روس سے دوسرا جہاز 29 مئی کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔ عبداللہ فرخ کے مطابق پاکستان روس کو 150 ملین کی ایکسپورٹ جبکہ 300 ملین کی امپورٹ کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 2.50ارب ڈالر تک بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان روس کے ساتھ سمندری خوراک اور دیگر سیکٹر میں بھی تجارت بڑھا سکتا ہے۔ خطے میں ٹرانس شپمنٹ تجارت کے تحت اس سروس سے پاکستان کو زرمبادلہ کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مہینے میں ایک اور کاروباری حجم بڑھتے ہی ماہانہ 3 بحری جہاز براہ راست روس سے پاکستان آئیں گے۔ روس کے ساتھ تجارت بڑھنے سے مزید تجارتی کمپنیاں بھی پاکستان آئیں گی۔

عبداللہ فرخ نے بتایا کہ روس سے سمندری راستے سے خطے کے دیگر ممالک بھارت ، چین اور افریقی ممالک کا ٹرانس شپمنٹ کے تحت کارگو آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں چین سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی ٹرانس شپمنٹ کا اضافہ ہوگا۔ سروس کے آغاز پر جہاز کا فریٹ زیادہ ہوگا جب تجارت بڑھے گی تو نرخ کم ہوجائیں گے۔

عبداللہ فرخ کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ براہ راست سمندری تجارت سے ڈالر کے علاوہ ادائیگی یوآن سمیت دیگر کرنسیوں میں بھی کی جاسکے گی۔

ٹائرز کی اسمگلنگ سے قومی خزانے کو 40ارب روپے سالانہ کا نقصان

کراچی: ٹائرز کی اسمگلنگ میں اضافے سے مقامی صنعت بحران کا شکار ہوگئی ہے،افغانستان کے راستہ ٹائرز کی اسمگلنگ سے قومی خزانے کو 40 ارب روپے سالانہ کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

گندھارا ٹائر کے سی ای او حسین قلی خان کے مطابق ٹائر کی مقامی صنعت کو دہرے مسائل کا سامنا ہے جن میں ایک اہم مسئلہ ایل سی نہ کھلنے کی وجہ سے ہونےو الی خام مال کی قلت ہے۔ ٹائر کی صنعت کے لیے زیادہ تر خام مال منظور شدہ ذرائع سے درآمد کیا جاتا ہے مگر ہم مقامی سطح پر بہت زیادہ ویلیو ایڈیشن کرکے ملک کے لیے زرمبادلہ بچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

مقامی صنعت کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ اسمگل شدہ ٹائرز کی بھرمار ہے جن میں چھوٹی گاڑیوں اور کاروں کے ٹائرز کی اسمگلنگ سرفہرست ہے۔ حسین قلی خان نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ٹائرز کی درآمد میں 47فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹائرز کی دستیابی میں اس کمی کو بڑے پیمانے پر ہونے والی اسمگلنگ نے پورا کیا۔

پسنجر کاروں کے (ایچ ایس کوڈ 4011.1000) کے حامل ٹائرز کی درآمد میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

حسین قلی خان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹائرز کی اسمگلنگ میں غیرمعمولی اضافے نے مقامی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر اسمگل شدہ ٹائرز غیرمعیاری ہیں جو شہر میں کھلے عام فروخت کیے جارہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کم قیمت ہونے کی وجہ سے خریدار نتائج کی پروا کیے بغیر یہ سستے غیرمعیار ٹائرز خرید رہے ہیں۔

سی ای او گندھارا ٹائرز کا کہنا ہے کہ بعض تخمینوں کے مطابق صرف ٹائرز کی اسمگلنگ سے قومی خزانے کو سالانہ 40ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے جس سے ٹائرز کی مقامی صنعت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ رواں مالی سال کسٹم کلکٹریٹ انفورسمنٹ نے کراچی کی مارکیٹ سے 54 کروڑ روپے مالیت کے 55 ہزار ٹائرز قبضے میں لیے ہیں۔ افغانستان میں ٹائروں کی کھپت پاکستان کے مقابلے میں ایک تہائی ہے۔

حکومت کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے درآمد ہونے والے ٹائرز کے ڈیٹا کا معائنہ کرکے اس سہولت پر ازسرنو غور کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کیا اس سہولت کے تحت درآمد ہونے والے ٹائرز افغانستان میں چلنے والی گاڑیوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والے ٹائرز کراچی میں ان لوڈ کیے جاتے ہیں یا پھر افغانستان سے واپس پاکستان اسمگل کردیے جاتے ہیں۔ کسٹم حکام کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان ٹرانزٹ کی سہولت کا غلط استعمال بند کیا جائے۔

حسین قلی خان نے مزید کہا کہ اسمگلنگ سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس ادا کرنے والی مقامی صنعت کو کاروبار کے یکساں مواقع مہیا کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب ٹائرز کے اسٹاک کی جانچ پڑتال کی جائے اور اس بات کی تحقیق کی جائے کہ ٹائرز ٹیکس ادا کرکے درآمد کیے گئے ہیں یا نہیں اور غیرقانونی اسٹاک قبضے میں لے لیا جائے۔

معیشت کے لئے اچھی خبر ،چین سے پاکستان کو مزید 50 کروڑ ڈالر ملیں گے

چین سے پاکستان کو مزید 50 کروڑ ڈالر ملیں گے ، رقم چین کی جانب سے 1.3ارب ڈالر کا تسلسل ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ چین سےپاکستان کو مزید 50 کروڑ ڈالر اسٹیٹ بینک کو ملیں گے، اس سلسلے میں تمام کاغذی کارروائی مکمل ہوچکی ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ رقم چین کی جانب سے 1.3ارب ڈالر کا تسلسل ہے،

چین کے کمرشل بینک نےپاکستان کیلئےقرض کی رقم رول اوورکی تھی ،

پاکستان پہلےاس قرض کو واپس کرچکا اب رول اوور کیا جا رہا ہے،

دوسری جانب وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے چین سے مزید 50 کروڑ ڈالر کے حصول کیلئے دستاویزی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے ،

فنڈز جلد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو جاری ہو جائیں گے،
چینی بینک نے 1.3 ارب ڈالر کے رورل اوور کی منظوری دی تھی،

پاکستان نے حال ہی میں یہ رقم چینی بینک کو واپس ادا کی تھی۔

سود کے فیصلے کیخلاف اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں خارج

سپریم کورٹ کی شرعی عدالت نے سود کے فیصلے کیخلاف سٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں خارج کر دیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے چیمبر میں متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔

وکیل سلمان اکرم راجہ اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی طرف سے پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کیں۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ سود خاتمے کے فیصلے کے خلاف اپیلیں واپس لی جائیں،

اپیلوں کی واپسی کے لیے متفرق درخواستیں دائر کیں ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپیلیں واپس لینے کی متفرق درخواستیں منظور کر لیں۔

نیپرا نے 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافی سرچارج کی منظوری دیدی

نیپرا نے بجلی صارفین پر بجلی گرادی، بجلی صارفین پر 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافی سرچارج عائد کرنے کی منظوری دے دی۔

یہ سرچارج عوام سے مارچ تا جون تک وصول کیا جائے گا، اضافے کے بعد مجموعی سرچارج 3 روپے 82 پیسے فی یونٹ ہوجائے گا،

اس وقت صارفین43 پیسے فی یونٹ سرچارج ادا کررہے ہیں۔

آئندہ مالی سال میں یہ سرچارج 1 روپے 43 پیسے رہ جائے، سرچارج کا اطلاق کے الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا،

نیپرا نے وفاقی حکومت کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا۔

انٹر بینک میں ڈالر آج مزید سستا،اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان

گزشتہ ہفتے تاریخی اڑان کے بعد آخری کاروباری دن ڈالر نے نیچے آنے کا سفر شروع کیا جو تاحال برقرار ہے۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹر بینک میں ڈالر مزید سستا ہوا ہے۔

انٹر بینک میں ڈالر 3 روپے 46 پیسے سستا ہونے کے بعد 275 روپے کا ہو گیا ہے۔

گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز انٹر بینک میں ڈالر 278 روپے 46 پیسے پر بند ہوا تھا۔

اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان

تاریخی اڑان کے بعد ڈالر نیچے آنے لگا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت رجحان نظر آ رہا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 317 پوائنٹس کے اضافے سے 41 ہزار 654 پر آ گیا ہے۔گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر 100 انڈیکس 41 ہزار 337 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

پاکستان نے ایک ارب ڈالر کے سکوک بونڈز کی ادائیگی کردی

اسلام آباد: پاکستان نے ایک ارب ڈالرز مالیت کے کے سکوک بونڈز کی ادائیگی کردی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے مقررہ وقت سے تین روز پہلے ہی سکوک بونڈز کی ادائیگی کردی ہے کیونکہ ادائیگی کی آخری تاریخ پانچ دسمبر تھی۔

ترجمان اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے میڈیا کے رابطہ کرنے پر سکوک بونڈز کی ادائیگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سکوک بونڈ کے لیڈ مینیجر سٹی بینک کو ادائیگی کردی ہے, اب سٹی بینک انفرادی طور پر سرمایہ کاروں کو ادائیگیاں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی ذمہ داری مقررہ مدت سے پہلے پوری کردی ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے نہ صرف اس سال کیلیے بلکہ اگلے سال کیلیے بھی حکومت تمام تر ادائیگییوں کیلیے فنانسنگ کا انتظام کرچکی ہے یہی وجہ ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ملک کے ڈیفالٹ کی افواہیں پھیلانے والوں کو باربار خبردار کررہے تھے کہ اس قسم کی افواہیں پھیلا کر معیشت کو نقصان نہ پہنچایا جائے کیونکہ پاکستان نے نہ کبھی پہلے ڈیفالٹ کیا اور نہ ابھی ڈیفالٹ کرے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیشہ تمام ادائیگیاں ذمہ داری سے کی ہیں اور ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ابھی بھی سکوک بونڈز کی بروقت ادائیگی کردی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مقررہ وقت سے بھی تین رو پہلے ہی سکوک بونڈ کی ادائیگی کی ہے۔