منی پور میں مظالم چھپانے کیلئے بھارت کا امریکی وفود کو ویزا دینے سے انکار

منی پور: امریکی وزارت خارجہ نے بھارتی حکومت کی جانب سے رواں ہفتے منی پور کے دورے کیلئے آرہے مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کے وفد کو ویزا جاری نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست منی پور میں اقلیتی طبقے پر مودی سرکار کے پرتشدد واقعات کا جائزہ لینے کیلئے آرہے امریکا کے مذہبی آزادی کمیشن کے وفد کو بھارتی حکومت نے ویزا مسترد کردیا ہے۔

مودی سرکار کی جانب سے ویزا مسترد کیے جانے والے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کے تین مندوبین میں سے ایک پادری تھامس ریز بھی ہیں جنہوں نے امریکی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ہم ممالک کا دورہ کرتے ہیں تاکہ ہم اس ملک میں مذہبی آزادی کی صورتحال کے اصل حقائق اور حالات جان سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی ملک کا دورہ کرکے وہاں کے مذہبی رہنماؤں، شہریوں سے بات چیت کرتے ہیں اور پھر حکومتی رہنماؤں سے بھی ملاقات کرتے ہیں تاکہ صورتحال پر انکا تبصرہ بھی مدنظر رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے صدر مملکت اور وزارت خارجہ کو مذہبی آزادی کے حوالے سے دنیا بھر کی صورتحال پر مشورہ دیں اور بھارت ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں ہم منی پور کے حالات کو سمجھنا چاہتے تھے تاکہ ہم اس معاملے میں بہت منصفانہ اور درست رائے قائم کرسکیں لیکن یہ مایوسی کی بات ہے کہ وہاں کی حکومت نے ہمیں ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

روسی فوج کی کارروائی، 70 مسلح افراد ہلاک

ماسکو: روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی سرحد سے روس میں داخل ہونے والے 70 سے زائد حملہ آور فوجی کارروائی میں مارے جاچکے ہیں۔

عالمی میڈیا نے روسی حکام کے حوالے سے بتایا کہ یوکرین سے مسلح افراد روسی سرحد کے قریب بیلگوروڈ خطے میں داخل ہوئے اور تقریباً 24 گھنٹے تک روسی افواج سے لڑے۔

روسی حکام نے بتایا کہ منگل کے روز جیٹ طیارے اور توپ خانے تعینات کیے گئے تاکہ ان مسلح گروہوں کو تباہ کیا جا سکے جو روس کے سرحدی علاقے میں داخل ہوئے۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ لڑائی کے دوران روسی سرحد پر موجود 9 دیہاتوں کو خالی کرالیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر 70 سے زائد عسکریت پسند ہلاک، 4 بکتر بند گاڑیاں اور 5 پک اَپ تباہ ہوئے جس کے بعد دشمن پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔

رجب طیب اردوان کے دوبارہ صدر بننے کے امکانات روشن

انقرہ: ترکی کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار سینان اوگن نے صدر طیب اردوان کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینان اوگن کی جانب سے اردوان کی حمایت کے اعلان کے بعد حزب اختلاف کے امیدوار کمال کلیکداروگلو کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

سینان اوگن ایک قوم پرست ہیں جو انتخابی مہم سے پہلے عوامی سطح پر میں بہت کم جانے جاتے تھے تاہم حیران کن طور پر انہوں نے 14 مئی کو ہونے والے ابتدائی صدارتی انتخابات میں 5.2 فیصد حمایت حاصل کی جس پر کچھ تجزیہ کاروں نے انہیں ایک مضبوط حریف قرار دیا۔

سینان اوگن نے انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں عوامی اتحاد کے امیدوار جناب رجب طیب اردوان کی حمایت کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کلیکداروگلو کی پارٹی، نیشن الائنس ہمیں بہتر مستقبل کے بارے میں قائل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اردوان کی حمایت کا فیصلہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل جدوجہد کے اصول پر مبنی ہے۔

امریکا کا پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

امریکا نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کردیا تفصیلات کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے آزادی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کی صورت حال بدستور تشویش ناک ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی انسانی حقوق سے متعلق سالانہ رپورٹ میں گزشتہ برس 2022 میں سابق وزیراعظم عمران خان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے منظرنامے کو شامل کو کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد تحریک انصاف کے احتجاج، عوامی ریلیوں اور آزادی مارچ کے دوران گرفتاریاں کی گئیں اور دو اموات بھی ہوئیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس دوران فوج اور عدلیہ پر تنقیدی مواد نشر یا شائع کرنے پر آئینی پابندیاں نافذ کی گئیں اور میڈیا کو سیاستدانوں کی تقاریر اور انتخابات سے متعلق کوریج کو سنسر کرنے پر مجبور کیا گیا۔

امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اب بھی آزادیٔ اظہارِ رائے اور میڈیا پر سنگین پابندیوں کے علاوہ صحافیوں کو بلاجواز گرفتاریوں، تشدد، سنسر شپ، اور جبری گمشدگی کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان بھر کی جیلوں میں سخت اور جان لیوا حالات زار کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور سیاسی قیدیوں پر تشدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تاہم امریکی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ 2022 میں ہونے والے انتخابات میں زیادہ تر علاقوں میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے انتخابی مہم چلانے، الیکشن لڑنے یا ووٹ مانگنے کے حق میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔

برطانیہ کا روسی صدر کے وارنٹ گرفتاری کا خیرمقدم

برطانیہ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے وارنٹ گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا ہے کہ پیوٹن کو یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم کا ذمے دار ٹھہرانے کے آئی سی سی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

جیمز کلیورلی نے کہا کہ یوکرین میں جنگی جرائم کا مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، یوکرین میں مبینہ مظالم کی تحقیقات جاری رہنی چاہیے۔

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے روسی صدر پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

واضح رہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) نے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

ہیگ میں قائم عدالت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے روس میں بچوں کی غیر قانونی منتقلی اور ملک بدری کی وجہ سے پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس بات پر یقین کیلئے ٹھوس وجوہات ہیں کہ پیوٹن ان جرائم کے ذمہ دار ہیں۔

بھارتی ایئرلائن کے طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ

بھارتی ایئرلائن کے طیارے کو دوران پرواز مسافر کی طبیعت خراب ہونے پر کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

ذرائع کے مطابق بھارت کی نجی ائیرلائن کی فلائٹ نئی دہلی سے قطر کے دارالحکومت دوحا جارہی تھی۔

دوران پروازمسافر کی طبیعت خراب ہونے پر کپتان نے کراچی ائیرٹریفک کنٹرول سے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی۔

میڈیکل ایمرجنسی کے پیش نظر بھارتی ایئرلائن کے طیارے کو کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی اجازت دے دی گئی۔

لینڈنگ کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے ) اور وفاقی وزارت صحت کے ڈاکٹرز نے مسافر کا معائنہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافر عبداللہ لینڈنگ سے قبل ہی انتقال کرچکا تھا۔ عبداللہ کی عمر 60 سال تھی اور ان کا تعلق نائیجیریا سے ہے۔

سی اے اے اور وزارت صحت کے ڈاکٹرز نے مسافر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔ بھارتی طیارہ میت کے ساتھ صبح 4 بج کر 6 منٹ پر دوحا روانہ ہوگیا۔

پاکستان کو چینی بینک سے پچاس کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوگئی

چائنیز بینک آئی سی بی سی نے پاکستان کیلئے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی فنانسنگ فسیلٹی کی منظوری دیدی ہے جس کی پہلی پچاس کروڑ ڈالرز کی قسط اسٹیٹ بینک کو موصول ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ چائنیز بینک آئی سی بی سی نے تمام کاروائی مکمل ہونے پر پاکستان کیلئے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی فنانسنگ رول اوور کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

انہوں ے بتایا کہ پاکستان کو چائنیز بینک سے یہ رقم تین قسطوں میں ملے گی۔ پچاس کروڑ ڈالر کی پہلی قسط اسٹیٹ بینک کو موصول ہوچکی ہے، پچاس کروڑ ڈالر ملنے کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔

قبل ازیں جمعے کو پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ملک کی معیشت کے لیے فنانسنگ بہت اہم ہے کیونکہ ہمیں ادائیگی کے توازن کے بحران کا سامنا ہے، اسٹیٹ بینک کے پاس غیر ملکی ذخائر بمشکل تین ہفتوں کی درآمدات کے باقی ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان کو پہلے ہی چائنا ڈویلپمنٹ بینک سے 700 ملین ڈالر کا قرضہ مل چکا ہے تاکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں مدد ملے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو رواں مالی سال جون تک مالیاتی فرق کو ختم کرنے کے لیے 5 بلین ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی۔

جس کے لیے ہم کوشش کررہے ہیں اور اس میں کامیابی بھی حاصل کریں گے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد ہی پاکستان کو بیرونی فنانسنگ ملے گی جو آئندہ ہفتے تک ممکن ہے۔

چین کے بعد بھارت میں بھی کورونا پھر سر اُٹھانے لگا

نئی دہلی: بھارت میں کورونا کی نئی شکل بی ایف.7 تیزی سے پھیل رہا ہے جس نے مودی سرکار کو فوری اور مؤثر اقدامات اُٹھانے پر مجبور کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تیزی سے پھیلنے والے کورونا کی نئی شکل اومیکروں کا نیا سب ویریئنٹ BF.7 دراصل چین سے ملک میں آیا اور اب تک کئی کیسز سامنے آچکے ہیں۔

خیال رہے کہ چین میں کورونا کے نئے کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور رواں ہفتے کورونا سے دو اموات بھی ہوئی ہیں جس کے بعد کئی شہروں میں لاک ڈاؤن کو مزید سخت کردیا گیا۔

بھارت میں بھی کورونا کے اس نئے ویریئنٹ کے 131 کیسز سامنے آچکے ہیں اور اسپتال میں کورونا میں مبتلا مجموعی تعداد 3 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔

بھارت کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا کے نئے ویریئنٹ سے متاثر ہونے والوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان میں زیادہ تر نے خود کو گھر میں قرنطینہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2019 میں کورونا کا پہلا کیس چین میں سامنے آیا تھا جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور امریکا کے بعد اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک بھارت تھا۔

برطانیہ میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے، مردم شماری رپورٹ

لندن: برطانیہ میں 2021 میں کئی گئی مردم شماری میں سب سے تیزی سے مقبول ہونے والا مذہب اسلام ہے جب کہ 13 فیصد کمی کے بعد عیسائی پہلی بار ملک کی نصف آبادی سے کم رہ گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے ادارہ برائے قومی شماریات نے ملک بھر 2021 میں کی گئی مردم شماری کے اعداد و شمار جاری کردیئے جس میں دلچسپ اور حیران کن انکشافات ہوئے ہیں۔

مذہب کا سوال 2001 میں برطانیہ کی مردم شماری میں شامل کیا گیا تھا جس کا جواب دینا لازمی نہیں تھا تاہم 94 فیصد لوگوں نے جواب دیا۔ جواب دہندگان نے دیا تقریباً 27.5 ملین افراد نے خود کو عیسائی کہا جو کُل آبادی کا 42 فیصد بنتا ہے۔

پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عیسائیوں کی آبادی ملک کی کُل آبادی کے نصف سے بھی کم رہ گئی یعنی عیسائیوں کی تعداد میں 13 فیصد کمی آئی تاہم اب بھی برطانیہ میں سب سے زیادہ افراد کا مذہب عیسائیت ہی ہے۔ دوسرے نمبر پر لادین ہیں یعنی جنھوں نے کسی مذہب کو اختیار نہیں کیا۔ ان کی تعداد 22.2 ملین ہوگئی جو کُل آبادی کا 37 فیصد بنتے ہیں۔

اس مردم شماری میں 3.9 ملین افراد نے اپنا مذہب اسلام بتایا جو آبادی کا 6.5 فیصد ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی شرح 4.9 فیصد تھی اس طرح اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والے مذہب کے طور پر سامنے آیا۔

مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں ہندوؤں کی تعداد دس لاکھ، سکھ 5 لاکھ 24 ہزار، بدھ مت کے ماننے والوں 2 لاکھ 73 ہزار اور یہودیوں کی تعداد 2 لاکھ 71 ہزار ہے۔سفید فاموں کے بعد دوسرا سب سے زیادہ عام نسلی گروہ “ایشیائی، ایشین برٹش یا ایشین ویلش” تھا جو 7.5 فیصد سے بڑھ کر 9.3 فیصد ہوگئے۔

اس گروپ کے اندر، زیادہ تر جواب دہندگان نے اپنے خاندانی ورثے کی شناخت بالتریب بھارتی، پاکستانی اور دیگر ایشیائی جیسے بنگلہ دیشی اور چینی کے طور پر کرائی۔ان کے علاوہ برطانیہ میں تیزی سے بڑھتا ہوا نسلی گروہ افریقی اور پھر کیریبین ہیں۔

انڈونیشیا، ہولناک زلزلے میں 162 افراد جاں بحق اور 350 زخمی

جکارتا: انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں 5.6 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جس کے نتیجے میں 162 افراد جاں بحق اور 350 سے زائد زخمی ہوگئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر5.6 تھی اور اس کا مرکزجاوا کے مغربی علاقے میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت جکارتا میں بھی محسوس کیے گئے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس میں انڈونیشین حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پیر کی صبح انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں آنے والے زلزلے سے متعدد عمارتیں گرگئیں ۔ عمارتوں کے ملبے میں بہت سے لوگ دبے ہوئے ہیں۔

انڈونیشیا کے ڈیزازٹرمنیجمنٹ کے ترجمان نے ہلاک خیز زلزلے میں 162 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ 350 افراد زخمی ہیں۔ جنھیں مختلف ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

اب بھی کئی افراد عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ زخمیوں میں سے بھی درجن سے زائد افراد کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ جزیروں پر مشتمل ملک انڈونیشیا میں زلزلے آنا معمول کی بات ہیں تاہم کبھی کبھی یہ نہاہت ہلاکت خیز ثابت ہوتے ہیں۔ اگست 2018 میں 500 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جب کہ 2 ہزار سے زائد زخمی اور 3 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔

زخمیوں اور ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہونے کے باعث اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی اور عملے کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں تاہم کھانے پینے کی اشیاء اور پینے کے پانی کی کمی ہے۔