مچھلی کھا کر دودھ پینے سے ’برص‘ کا کوئی تعلق نہیں، جدید تحقیق

مچھلی کھا کر دودھ پینے سے جِلد کی بیماری ’برص‘ کا کوئی تعلق نہیں،

سائنسدانوں اور ماہرین صحت نے نئی تحقیق میں بتا دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کئی ممالک میں یہ روایت ہے

کہ مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینے سے برص کی بیماری ہوجاتی ہے۔

ایک سوچ یہ بھی ہے کہ مچھلی اور دودھ والی اشیاء ایک ساتھ کھانے سے گیس اور نظامِ ہاضمہ کے دیگر مسائل ہو جاتے ہیں

کیونکہ ان میں بےحد پروٹین ہوتا ہے جسے ہضم کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

لیکن کئی علمی تحقیقات کے بعد مچھلی کھا کے دودھ پینے سے برص کی بیماری کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا۔

سائنسدانوں نے یہ بھی بتایا کہ بحیرہ روم کے قریبی ممالک میں کھائی جانے والی غذائیں دنیا کی سب سے صحت مند غذا ہیں جن میں مچھلی، دودھ اور دہی شامل ہیں۔

ملک میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 2.81 فیصد تک پہنچ گئی

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 2.81 فی صد تک پہنچ گئی جبکہ کورونا کے باعث دو افراد انتقال کر گئے۔

این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 406 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ انتہائی نگہداشت میں زیر علاج کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ملک بھر میں انتہائی نگہداشت میں زیر علاج کورونا کے مریضوں کی تعداد 94 پہنچ گئی۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 14 ہزار 496 ٹیسٹ کیے گئے۔ سندھ میں کورونا مثبت کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، صوبے میں کورونا مثبت کیسز کی مجموعی شرح 7.64 فی صد پہنچ گئی۔

کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 21.71 فی صد ریکارڈ کی گئی جبکہ حیدرآباد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.51 فی صد تک پہنچ گئی۔

مردان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.77 فی صد، اسلام آباد میں 3.45 فی صد، لاہور میں 2.82 فی صد، پشاور میں 3 فی صد، راولپنڈی میں 1.64 فی صد جبکہ گجرات میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 1.82 فی صد ریکارڈ کی گئی۔

ذیابیطس ذہنی کمزوری کو بڑھتا ہے

نیویارک: ای لائف نامی تحقیقی جرنل میں کہا گیا ہے کہ ذیابیطس کا مرض نہ صرف بڑھاپے کو تیز رفتار کرتا ہے بلکہ دماغی عمر رسیدگی کو بھی پر لگا دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے حملے کو با آسانی روکا جاسکتا ہے اور یوں کئی جسمانی امراض سے بچنا بھی ممکن ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس عمر رسیدگی سے ہونے والے بڑھاپے کی کیفیت کو 26 فیصد تک بڑھا سکتی ہے یا اس عمل کو تیز کرسکتی ہے۔

ہمارا دماغ غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل ہے، اس میں عملی یادداش، سیکھنے، اکتساتب، خود پر قابو، اور لچکدار فکر جیسی خاصیت ہوتی ہے۔ بڑھاپے کے ساتھ ساتھ ان تمام افعال میں زوال آتا ہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں میں دماغی پروسیسنگ اور دیگر امور میں 7 سے 13 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔

اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کئی طرح کے دماغی انحطاط بڑھا سکتی ہے۔ اس کے بعد ماہرین نے تندرست اور ذیابیطس میں مبتلا افراد کے دماغی ایم آر آئی اسکین لیے اور ان پر غور کیا۔ معلوم ہوا کہ دماغ میں سوچ اور فکر سے وابستہ گرے میٹر ذیابیطس کے شکار مریضوں میں دیگر افراد کے مقابلے میں 13 فیصد تک کم ہوا۔ اس تحقیق میں صحت مند اور بیمار دونوں افراد کی عمریں یکساں تھیں۔

یوں اعصابی زوال (نیوروڈی جنریشن) اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان ایک واضح تعلق سامنے آیا ہے۔ پھر یہ مریض جتنا پرانا ہوگا اس کا اثر بھی اتنا ہی ہوگا۔ مجموعی طور پر ذیابیطس دماغی بڑھاپے کو 26 فیصد تیز کر دیتی ہے۔

یہ تحقیق اسٹونی بروک یونیورسٹی کی ڈاکٹر لیلیان موجیکا پاروڈی اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذیابیطس دماغ کو طبعی اور ساختی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے قبل کی تحقیقات بھی یہی کچھ ثابت کرتی ہیں اور اب اس کے مزید ثبوت ملے ہیں۔

ماہرین نے اگلے مرحلے میں مزید بایومارکر پر غور کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں معالجاتی طریقہ کار وضع کرنا ہوں گے۔

اسلام آباد میں ڈینگی سے 11 افراد جاں بحق

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں رواں سیزن کے دوران ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3000 سے تجاوز کرگئی۔

ڈی ایچ او اسلام آباد کے مطابق گزشتہ روز ڈینگی کے مزید 91 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد کر 3083 ہوگئی ہے۔ اسلام آباد کے کل کیسز میں سے 1824 کا تعلق دیہی جب کہ 1259 کا شہری علاقوں سے ہے۔

رواں سیزن کے دوران ڈینگی کے سب سے زیادہ 757 کیسز ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں لائے گئے، فیڈرل جنرل ہسپتال میں335، پمز میں 282 ،پولی کلینک میں 108، بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں 144،ڈی ایچ کیو ہسپتال راولپنڈی میں37 مریض لائے گئے، اس کے علاوہ نجی ہسپتالوں و لیبارٹریز میں بھی 1400 سے زائد مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں ڈینگی سے اب تک 11 افراد انتقال کرچکے ہیں۔

بجلی کے جھٹکوں سے کمر کے درد کا خاتمہ ممکن

لندن: برطانوی اور امریکی سائنسدانوں نے بہت کم فریکوینسی والی بجلی کے معمولی جھٹکوں سے کمر کا شدید درد ختم کرنے میں اتنی غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے کہ جس پر خود انہیں یقین نہیں آرہا۔

کنگز کالج لندن کے ماہرین کی نگرانی میں یہ تجربات ایسے 20 مریضوں پر کیے گئے جن کی کمر کے نچلے حصے میں پچھلے کئی سال سے شدید درد تھا، جو بعض مریضوں میں کمر سے شروع ہو کر کولہوں اور ٹانگوں تک پہنچ رہا تھا۔ مستقل دوائیں کھانے اور کمر کی سرجری کروانے کے بعد بھی ان مریضوں کے درد میں کچھ خاص افاقہ نہیں ہورہا تھا۔

یہی تجربات اس سے پہلے چوہوں کیے گئے تھے جن سے انکشاف ہوا تھا کہ اگر کمر کے نچلے حصے میں، ریڑھ کی ہڈی کے ارد گرد برقیرے (الیکٹروڈز) لگا کر ان میں سے بہت کم تعدد والی بجلی (الٹرا لو فریکوینسی الیکٹرک کرنٹ) گزاری جائے تو کمر کے درد میں بہت کمی کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ الٹرا لو فریکوینسی میں 300 ہرٹز سے 3,000 ہرٹز والی برقی مقناطیسی لہریں شامل ہوتی ہیں۔

انسانی آزمائشوں کے دوران مریضوں کی کمر میں، معمولی آپریشن کے بعد، ریڑھ کی ہڈی کے قریب دو چھوٹے چھوٹے برقیرے نصب کردیئے گئے جن میں سے روزانہ تھوڑی دیر تک بہت کم فریکوینسی پر معمولی سی بجلی گزاری گئی۔ بجلی گزرنے پر ریڑھ کی ہڈی میں موجود اعصاب سے درد کے سگنل دماغ تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور یوں ان مریضوں میں کمر کا درد بہت کم ہوگیا۔

تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات میں 90 فیصد مریضوں کی کمر کا درد اوسطاً 80 فیصد کم ہوگیا جبکہ ان میں سے بھی چند مریضوں کا کہنا تھا کہ انہیں کمر کا درد بالکل بھی محسوس نہیں ہوا۔ پندرہ دنوں تک یہ عمل روزانہ دوہرا کر روک دیا گیا، جس کے بعد تمام مریضوں میں کمر کا درد بھی بتدریج بڑھنے لگا؛ اور بالآخر 23 ویں روز تک ان کی کیفیت ویسی ہی ہوگئی کہ جیسی علاج شروع ہونے سے پہلے تھی۔

تجربات کے نتائج نے انہیں انجام دینے والے سائنسدانوں تک کو حیران کردیا ہے۔ اب وہ اپنے ابتدائی مشاہدات کی مزید تصدیق کےلیے زیادہ بڑا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔

سیب اور ناشپاتی کھانے سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، تحقیق

آئرلینڈ: پھلوں اور سبزیوں کے صحت پر اثرات سے تو ہم سب واقف ہیں لیکن بعض اقسام کے پھل جن میں سیب، بیریاں، ناشپاتی اور دیگر پھل شامل ہیں وہ بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ پھل اینٹی آکسیڈنٹس اور فلے وینوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جن کی بدولت وہ امراضِ قبل سرطان اور ذیابیطس سے بھی بچاتے ہیں۔

اگرچہ ان پھلوں کی افادیت بھی سامنے آتی رہی ہے لیکن ایک نئی تحقیق نے اس حقیقت کو مزید تقویت بخشی ہے۔ اب یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہمارے معدے اور آنتوں میں رہنے والے خردنامیے اور مختلف اقسام کے بیکٹیریا فلے وینوئڈز سے عمل کرکے بلڈ پریشر قابو میں رکھتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ بعض فلے وینوئڈز دل کے لیے مفید کیوں ہوتے ہیں؟

شمالی آئرلینڈ میں واقع کوئنزیونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق بتاتی ہے کہ فلے وینوئڈز کے انجذاب اور بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں معدے کے خردنامئے اہم کردار ادا کرتےہیں۔ اس طرح فلے وینوئڈز کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

بلیوبیری، اسٹرابری اور دیگر اقسام کی بیریوں کی روزانہ 80 گرام مقدار کھائی جائے تو اس سے چار درجے بلڈ بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ نارمل بلڈ پریشر کی پیمائش 120 اور 80 ہوتی ہے اور 140 سے 90 ایم ایم کو بلڈ پریشر کی بلند مقدار قرار دیا جاسکتا ہے۔

کوئنز یونیورسٹی میں غذائیت کی ماہر پروفیسر ایڈن کیسیڈی کہتی ہیں کہ ’اینتھوسیانِنس‘ ایک قسم کے فلے وینوئڈز ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتے ہیں۔ کئی پھلوں کے نیلے اور سرخ رنگوں میں یہ خاص فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں، جن میں بلیک بیری، بلیو بیری، سرخ انگور اور دیگر پھل شامل ہیں۔

معدے کے بیکٹیریا انہیں سادہ اجزا میں تقسیم کرتے ہیں اوریہ دل کے لیے بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک جانب تو یہ خود آنتوں کے بیکٹیریا پرمثبت اثر ڈالتے ہیں تو دوسری جانب انہی بیکٹیریا کی بدولت بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔

اس مطالعے میں 904 افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 25 سے 82 برس تھی جن کا طبی ڈیٹا بیس جرمنی کے بایوبینک میں تھا۔ ان تمام افراد سے 112 اقسام کے کھانوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔

شریک افراد سے ان کے کھانے پینے ، سونے اور دیگرمعلومات کی بابت پوچھا گیا اور دن میں کئی مرتبہ ان کے بلڈپریشر ٹیسٹ کئے گئے۔ ان میں سے جن افراد نے سیب، ناشپاتی اور بیریاں کھائی تھیں ان میں بلڈ پریشر کی سطح معمول پر دیکھی گئی۔

پیٹ کے نظام کا دماغ سے کوئی تعلق نہیں، ماہرین

کوینزلینڈ: جس طرح کے اعصابی خلیات ہمارے دماغ میں پائے جاتے ہیں، اس سے ملتے جلتے اعصابی خلیے ہمارے پیٹ میں بھی ہوتے ہیں جو غذا کے ہضم ہونے سے متعلق کئی کاموں میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ خلیے ہمارے معدے کی دیواروں کے سکڑنے اور پھیلنے سے لے کر کھانا ہضم ہونے تک، درجنوں کاموں کی نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر پیٹ/ معدے کے پٹھوں کو حکم بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ اسی صلاحیت کی بناء پر پیٹ میں اعصابی خلیوں کے اس مجموعے کو ’’پیٹ کا دماغ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ تحقیق چوہوں پر اس لیے کی گئی کیونکہ چوہوں کی بعض اقسام اندرونی طور پر انسانوں سے بہت ملتی جلتی ہیں جبکہ وہاں ہونے والے عوامل بھی انسانوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

جدید مشاہداتی تکنیکوں کے استعمال سے ماہرین پر انکشاف ہوا کہ پیٹ میں پایا جانے والا یہ اعصابی نیٹ ورک، ہماری سابقہ معلومات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جبکہ یہ بہت ہی منظم انداز سے غذائی ہاضمے کے عمل کو کنٹرول بھی کررہا ہے؛ جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

یہ غذائی نالی کی ابتداء سے لے کر اختتام تک، ہر حصے میں حرکت اور رطوبتوں کی مقدار تک کو کنٹرول کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ’’پیٹ میں دماغ‘‘ ہمارے سابقہ اندازوں اور معلومات کے مقابلے میں پیچیدہ ہونے کے علاوہ ’’زیادہ ذہین‘‘ بھی ہے۔

یہ دریافت بہت اہم ہے لیکن اسے مکمل ہر گز نہیں کہا جاسکتا کیونکہ ابھی پیٹ میں موجود اعصابی خلیوں سے متعلق ابھی بہت سے سوالوں کے جوابات ملنا باقی ہیں۔

مزید تحقیقات کے ذریعے اس کی مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی تاکہ پیٹ کے اعصابی نظام کو سمجھ کر ہاضمے اور اس سے تعلق رکھنے والے مختلف مسائل، بشمول امراض کا بہتر علاج ترتیب دیا جاسکے۔

ملک بھر میں کورونا کے وار تیز

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا نے 86 افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا جب کہ مثبت کیسز کی شرح 7.79 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی تشخیص کے لیے 58ہزار 203ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4537 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

ملک میں اب تک کورونا کے مصدقہ مثبت کیسز کی تعداد 1,024,861ہوگئی ہے جن میں سے 938,843مریض شفایاب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز اس وبا نے مزید 86افراد کی زندگیوں کو نگل لیا۔ اس طرح ملک میں اب تک اس وبا سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 23 ہزار 295ہوگئی ہے۔ جب کہ مثبت کیسز کی شرح7.79فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔

مختلف 200 دوائیں کورونا وائرس کا علاج کرسکتی ہیں

کیمبرج: برطانوی سائنسدانوں نے مختلف بیماریوں کی ایسی 200 منظور شدہ دوائیں شناخت کرلی ہیں جنہیں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ کا علاج بھی کرسکتی ہیں۔

ان میں سے 40 ادویہ پہلے ہی کووِڈ 19 کے خلاف آزمائش کے مرحلے پر ہیں جبکہ 160 دوائیں پہلی بار کورونا وائرس کے ممکنہ علاج کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

ماہرین نے یہ دریافت ’’کمپیوٹیشنل بائیالوجی‘‘ اور ’’مصنوعی ذہانت‘‘ سے ایک ساتھ استفادہ کرتے ہوئے کی ہے۔ واضح رہے کہ کمپیوٹیشنل بائیالوجی (حسابی حیاتیات) میں کمپیوٹر سائنس کے مختلف طریقے اور تکنیکیں استعمال کرتے ہوئے حیاتیات اور طب کے میدانوں میں تحقیق کی جاتی ہے۔

عملی نقطہ نگاہ سے جب ان میں سے بھی مؤثر ترین ادویہ تلاش کی گئیں تو کمپیوٹرائزڈ ماڈل میں دو ’’بہترین امیدوار‘‘ دوائیں سامنے آئیں جن میں سے ایک ملیریا کی اور دوسری گٹھیا کی دوا ہے۔ اگرچہ موجودہ/ دستیاب دواؤں سے کووِڈ 19 کے علاج پر مرکوز ہے لیکن مستقبل میں دوسری بیماریوں کے بہتر، کم خرچ اور مؤثر علاج کی تلاش میں بھی استعمال کی جاسکے گی۔

خوشخبری! ذہنی تناؤ کم کر کے جوانی میں سفید ہونے والے بال سیاہ کیے جا سکتے ہیں،تحقیق

جدید میڈیکل سائنس کی حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بالوں کی رنگت سفید ہونے کا عمل دراصل ذہنی تناؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گی۔

طبی سائنس نے بھی ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جن سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بالوں کی جڑوں سے جو بال نکلتے ہیں ان کی رنگت تو تبدیل نہیں ہوتی مگر ذہنی تناؤ اور دباؤ کا سامنا کرنے والے افراد میں بال بتدریج سفید ہونے لگتے ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ویجیلوس کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد فراہم کیے گئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ ذہنی تناؤ اور بالوں کی سفیدی کے درمیان تعلق موجود ہے۔

اس سے دہائیوں ہرانے قیاس کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ تناؤ سے بالوں کی رنگت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ میکنزمز کو سمجھنے سے ‘پرانے’ سفید بالوں کو ‘جوان’ حالت میں واپس لانا ممکن ہوسکے گا۔

اگرچہ لوگوں کا پہلے سے ماننا ہے کہ ذہنی تناؤ سے بالوں کی سفیدی کا عمل تیز ہوجاتا ہے مگر سائنسدانوں میں اس تعلق کے حوالے سے بحث دہائیوں سے ہو رہی ہے، کیونکہ اس طریقہ کار کے بارے میں علم نہیں جو بالوں کی رنگت میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔

بالوں کی حیاتیاتی تاریخ

اس کو سمجھنے کے لیے محققین نے 14 رضاکاروں کے بالوں کے تجزیہ کیا اور ان کے نتائج کا موازنہ ہر رضاکار کی تناؤ سے متعلق ڈائری سے کیا گیا جو انہیں لکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

محققین نے فوری طور پر محسوس کیا کہ کچھ سفید بال کی رنگت دوبارہ قدرتی رنگت سے بدل گئی، جسے پہلے کسی تحقیق میں دریافت نہیں کیا گیا تھا۔

جب بالوں کو ڈائریز سے ملا کر دیکھا گیا تو محققین نے تناؤ اور بالوں کی سفیدی کے درمیان نمایاں تعلق کو دریافت کیا، جبکہ کچھ کیسز میں تناؤ سے نجات پر بالوں کی قدرتی رنگت پر واپسی کو بھی دیکھا گیا۔

چھٹیوں میں بال سیاہ

محققین نے بتایا کہ جب ایک فرد جو تعطیلات پر گیا تھا، تو وہاں اس کے 5 بال پھر سیاہ ہوگئے۔

بالوں کی رنگت جب بدلتی ہے تو 300 پروٹینز میں تبدیلیاں آتی ہیں اور محققین نے ایسا ریاضیاتی ماڈل تیار کیا تھا جو تناؤ سے متعلق مائی ٹو کانڈریا ڈی این اے تبدیلیوں سے آگاہ کرکے وضاحت کرسکے کہ تناؤ کس طرح بالوں کو سفید کرتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ مائی ٹو کانڈریا خلیات کے پاور ہاؤسز ہوتے ہیں مگر یہ ان کا واحد کردار نہیں، بلکہ یہ درحقیقت خلیات کے اندر انٹینا کی طرح ہوتے ہیں جو مختلف طرح کے سگنلز بشمول ذہنی تناؤ پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

جوانی لوٹ سکتی ہے؟

محقین نے کہا کہ ہمارے ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ بالوں کی سفیدی کو لوگوں میں ریورس کیا جاسکتا ہے تاہم اس کا میکنزم مختلف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تناؤ کی شدت میں کمی سے ضروری نہیں کہ بالوں کی قدرتی رنگت واپس لوٹ آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ماڈل سے عندیہ ملتا ہے کہ بالوں کو سفید ہونے کے لیے ایک مخصوص حد تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے، درمیانی عمر میں یہ حد مختلف عناصر کے باعث قریب آ جاتی ہے جبکہ تناؤ اس جانب سفر تیز کردیتا ہے۔

آسان الفاظ میں بال جوانی میں تناؤ کے نتیجے میں سفید ہوئے ہوں اور بہت جلد ذہنی حالت کو بہتر بنا لیا جائے تو ممکن ہے کہ بالوں کی رنگت کو ریورس کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا نہیں خیال کہ تناؤ میں کمی لاکر 70 سالہ کسی فرد کے بالوں کو سیاہ کیا جاسکتا ہے جن کے بال برسوں قبل سفید ہوچکے ہیں، تاہم جوانی میں کسی حد تک ایسا ممکن ہے، مگر اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔