شہرکے بیچوں بیچ ایک پراسرار قبر ؟

انقرہ: آج کل سوشل میڈیا پر ترک صوبے سیواس کے قصبے شرکیشلا میں سڑک کے بیچوں بیچ ایک پراسرار قبر کے چرچے ہیں۔ یہ قبر پچھلے کئی سال سے یہاں بنی ہوئی ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ آخر یہ قبر کس کی ہے۔

قبر کے کتبے پر ’’ھوالباقی‘‘ کے نیچے ’’بسم اللہ الرحمان الرحیم‘‘ کے بعد، ترکی زبان میں ’’گریبان شہید بابا‘‘ لکھا ہے لیکن پھر بھی کسی کو معلوم نہیں کہ یہاں کون دفن ہے۔یہاں رہنے والے پورے یقین سے صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ قبر بہت پرانی اور قصبہ شرکیشلا کی تعمیرِ نو سے بھی بہت پہلے کی ہے۔

کسی کا خیال ہے کہ اس قبر میں کوئی شہید دفن ہے، تو کوئی کہتا ہے کہ یہ کسی عالمِ دین کا مزار تھا جس کی آج صرف یہ مرکزی قبر ہی باقی رہ گئی ہے۔ یہ قبر سڑک کے بالکل درمیان میں کیوں ہے؟ پرانے مقامیوں کا کہنا ہے کہ قصبہ شرکیشلا کی تعمیرِ نو سے پہلے تک یہ قبر ایک نجی مکان کا حصہ تھی۔

قصبے کے نئے نقشے کے تحت یہ مکان توڑ دیا گیا اور سرکاری اہلکاروں نے اس قبر کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا لیکن یہاں کام کرنے والے مزدوروں کو عجیب و غریب خواب دکھائی دینے لگے۔خواب میں یہ قبر ان مزدوروں کو مخاطب کرکے کہتی کہ اسے یہیں رہنے دیا جائے۔ نتیجتاً قبر کے ارد گرد سے سڑک گزارنے کا فیصلہ کرتے ہوئے، قبر کو یونہی چھوڑ دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ قبر پہلے جس مکان کے احاطے میں تھی، اس کے سابقہ مالک کو خواب میں کسی بزرگ نے آکر بتایا کہ بہت سال پہلے یہ قبر کسی شہید کا مقدس مزار تھی جسے چھیڑنے یا توڑنے کی کوشش نہ کی جائے۔بعد ازاں ایک اور شخص نے یہ مکان خرید لیا لیکن اسے بھی خواب میں نامعلوم بزرگ نے یہی بتایا اور وہ بھی اس قبر کو توڑنے سے باز رہا۔

آج شرکیشلا میں رہنے والے لوگ اس قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اس قبر میں جو کوئی بھی دفن ہے، وہ یقیناً کوئی برگزیدہ ہستی ہے۔

خلا میں یہ پراسرار ’’ایکسرے ہاتھ‘‘ درحقیقت کیا ہے؟

پیساڈینا، کیلیفورنیا: خلا کے تاریک پس منظر میں یہ پراسرار اور روشن ہاتھ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں، اور نہ ہی فوٹوشاپ کی گئی کوئی تصویر ہے، بلکہ یہ ستاروں کا عکس ہے جو ناسا کی ’’چندرا ایکسرے خلائی دوربین‘‘ سے حاصل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی آنکھ ایکسریز کو نہیں دیکھ سکتی۔ اس لیے خلا سے آنے والی ایکسریز کی مدد سے حاصل ہونے والی تصویروں کو کچھ خاص مراحل سے گزارنے کے بعد ایسے رنگوں میں تبدیل کیا جاتا ہے کہ جو انسانی آنکھ کےلیے قابلِ مشاہدہ ہوتے ہیں۔ یہ تصویر بھی اسی قسم کی ہے۔

یہ تصویر پہلی بار ناسا نے 2009 میں اپنی منفرد خلائی تصویروں کی ایک آن لائن نمائش میں پیش کی تھی۔ اس کا مرکزی حصہ ’’ایم ایس ایچ 15-52‘‘ کہلانے والے ایک سپرنووا (دھماکے سے پھٹنے والے ستارے) کی باقیات پر مشتمل ہے۔
چندرا ایکسرے دوربین نے اس کی پہلی تصویر 2004 میں، دوسری 2008 میں، تیسری 2017 میں اور چوتھی تصویر 2018 میں کھینچی تھی۔

ناسا کے ماہرین نے ان تمام تصویروں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ یہ ’’پراسرار ہاتھ‘‘ اصل میں زبردست توانائی خارج کرنے والی گیس اور گرد کے ایک وسیع بادل (نیبولا) پر مشتمل ہے جو 150 نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔ (یعنی روشنی کو 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے، اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں 150 سال لگ جاتے ہیں۔)

یہ نیبولا ہم سے تقریباً 17 ہزار نوری سال دور ہے جس کے بارے میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کی وجہ بننے والا سپرنووا آج سے 1700 سال پہلے پھٹا تھا، جس کا مادّہ آج تک بہت تیزی سے دور دور تک پھیل رہا ہے۔

سپرنووا کا وہ حصہ جو دھماکے کے بعد باقی رہ گیا ہے، تصویر کے تقریباً مرکز میں نیلگوں مائل روشن حصے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے؛ جہاں سے آج بھی زبردست ایکسریز خارج ہورہی ہیں۔

چوروں پر چیخیں اور تنخواہ پائیں

گجرات: جہاں تک دور رہتے ہوئے گھر بیٹھے کام کا تعلق ہے تو اس میں ایک دلچسپ ملازمت کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جب کوئی چور امریکی سپر اسٹور سے کوئی شے چراتا ہے، رقم دیئے بنا باہر جاتا ہے یا کوئی ڈاکو اندر گھس آئے تو بھارت اور دیگر ممالک میں سی سی ٹٰی وی فوٹیج دیکھ کر کلرک لاؤڈ اسپیکر پر اسے خبردار کرتا ہے کہ اس کی ویڈیو بن رہی ہے اور پولیس کو فون کردیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں سیون الیون جیسے کئی اسٹور نے ان دیکھی آواز کا تجربہ کیا ہے جو مجرموں اور اٹھائی گیروں کو ہزاروں کلومیٹر دور سے للکارتی ہے۔ اس کے فوری اور دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں کیونکہ نادیدہ شخص کی زوردار آواز سے مجرم گھبراجاتےہیں اور وہ سرپرپاؤں رکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے بعد بہت دلچسپ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ایک چھوٹی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص کولر سے کافی کی بوتل نکالتا ہے غٹاغٹ پینے لگتا ہے اور آگے بڑھ کر باہر جانے لگتا ہے تواچانک ایک آواز آتی ہے کہ یہ بوتل اسکین کرکے اس کی رقم دیدی گئی ہے؟

دوسری ویڈیو میں کاؤنٹر کیشیئر سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھائی نہیں دے رہا اور ایک دوسرے شخص سے بات کررہا ہے تو گھنٹی جیسی آواز کے بعد لاؤڈاسپیکر سے پوچھا جاتا ہے، کہ وہ دوسرا شخص کون ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ وہ کاؤنٹر کی دوسری جانب آجائے۔

واشنگٹن کی کمپنی لائیو آئی سروس نے یہ انوکھا خیال پیش کیا ہے۔ اس میں براہِ راست ویڈیو کو سینکڑوں ہزاروں میل دور شخص دیکھتا رہتا ہے اور کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں وہ اپنے مائیک پر مجرم کو خبردار کرتا ہے جس کی آواز لاؤڈاسپیکر سے گونجتے ہوئے محسوس ہوتی ہےاور وہ اپنی حرکت سے باز آجاتا ہے یا پھر کھسکنے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔ ویڈیو پر نظر رکھنے والے کئی ملازم انڈیا کے شہر کرنال میں رہتے ہیں اور ماہانہ 399 ڈالر تک کمارہے ہیں جو پاکستانی 60 ہزار روپے کے برابر رقم ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں اس کا رحجان بڑھ رہا ہےاور کورونا وبا کے دوران اس کا رحجان بڑھا ہے، تاہم بعض ماہرین نے اسے انسانوں کی جاسوسی کا عمل بھی قرار دیا ہے اور اس پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ عین اسی طریقے سے ملازموں کو بھی ہدف بنایا جارہا ہے جبکہ چوری چکاری کو بہانہ بنایا گیا ہے۔دھیرے دھیرے آواز سے خبردار کرنے والا یہ نظام امریکہ میں بہت مقبول ہورہا ہے اور کئی ہوٹلوں اور پٹرول پمپوں پر بھی اسے نصب کیا جارہا ہے۔

اس طرح ایک سیون الیون اسٹور پر سیاہ لباس پہنے دو چور اندر داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کے پاس رائفل بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ وہ کلرک کو کاؤنٹر کے پیچھے جانے کا کہتے ہیں اور رقم کا تقاضہ کرتے ہیں۔ لیکن اتنے میں اسپیکر انہیں خبردار کرتے ہوئے پولیس بلانے کا کہتا ہے تو دونوں ہی وہاں سے فرار ہوجاتے ہیں۔

زیادہ بچوں والے والدین کیلیے نقد انعام کا اعلان

آئیزول: بھارت کی شمالی ریاست میزورام میں ایک وزیر کی جانب سے زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یوں تو کئی ریاستیں آبادی میں کمی کے لیے خصوصی مہم چلا رہی ہیں تاہم ایک ریاست ایسی بھی ہے جہاں معاملہ اس کے برعکس ہے اور زیادہ بچے پیدا کرنے والے والدین کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔

شمالی ریاست میزورام کے کھیل کے وزیر رابرٹ روماویا نے اپنے حلقے میں زیادہ بچوں والے والدین کے لیے ایک لاکھ بھارتی روپے، ٹرافی اور تعریفی سند دینے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے بچے ہونے پر یہ انعام دیا جائے گا۔ اس موقع پر رابرٹ روماویا نے مزید کہا کہ زیادہ بچوں والے والدین کو انعام سرکاری خزانے سے نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کے بیٹے کی ایک تعمیراتی کنسلٹنسی فرم انعامات کے لیے رقم فراہم کرے گی۔

وزیر کھیل نے اپنے موقف کی تائید میں کہا کہ ریاست میں بانجھ پن میں اضافے اور آبادی میں مسلسل کمی تشویشناک ہے جس سے مختلف قبائل اور برادریوں کی بقا خطے میں پڑ گئی جب کہ کئی شعبوں میں طریقی کے لیے ریاست کی آبادی میں اضافہ ناگزیر ہوگیا۔ واضح رہے کہ 2011 کی مردم شماری میں میزورام کی آبادی 10 لاکھ 91 ہزار 14 تھی یعنی 21 ہزار 87 اسکوائر کلومیٹر کے رقبے پر محیط اس ریاست میں فی اسکوائر کلومیٹر 52 افراد رہتے ہیں۔ میزورام بھارت میں آروناچل پردیش کے بعد سب سے کم آبادی والی ریاست ہے۔

بھارت، ایک بچی نے کم وقت میں 46 ڈشیں بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

چینائی: بھارت میں تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والی بچی نے 58 منٹوں میں 46 ذائقہ دار پکوان تیار کرکے عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والی 11 سالہ بچی سری لکشمی سائی نے 58 منٹوں میں 46 طرح کے کھانے تیار کرکے یونیکو بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ لکشمی کو کھانے تیار کرنے کا شوق لاک ڈاؤن کے دوران شروع ہوا اور اُس نے اپنی والدہ سے تربیت لی۔ لکشمی کے والد نے محسوس کیا کہ ان کی بیٹی میں کھانا پکانے کی صلاحیت عام خواتین سے زیادہ ہے۔

لکشمی کے والد نے اپنی بیٹی کو ورلڈ ریکارڈ کے لیے تیاری کا کہا اور اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ اسی ریاست میں ایک ایسی 10 سالہ لڑکی بھی ہے جس نے 30 ڈشیں تیار کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ باپ کی ہدایت اور ماں کی حوصلہ افزائی سے لکشمی نے یونیکو کے ارکان کے سامنے ایک تقریب میں تامل ناڈو کے روایتی کھانوں کے ڈھیر لگا کر اعزاز اپنے نام کرلیا۔

گاؤں کو ریچھوں سے بچانے کیلئے بھیڑیا روبوٹ نصب

ٹوکیو: جاپان کے ایک دیہی علاقوں میں خونخوار ریچھوں سے فصلوں اور انسانوں کو خطرہ لاحق تھا۔ اس کےبعد وہاں خوفناک بھیڑیوں کے دو روبوٹ لگائے گئے جس کے بعد ریچھوں کی آمدورفت کم ہوگئی ہے۔

شہر کے نواح میں یہ علاقہ بہت حد تک دیہی ہے جہاں لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ٹاکی کاوا نامی یہ گاؤں جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو میں واقع ہے۔ ستمبر میں یہاں مختلف اوقات میں خونخوار بھالو دیکھے گئے جس کے بعد گاؤں والوں نے مل کر دو روبوٹ بھیڑیئے خریدے جس کی شکل بہت ہولناک ہے اور اس کی آنکھوں میں سرخ روشنیاں لگی ہیں۔

مختلف اشاعتی اداروں نے خبر دی ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں یہاں ریچھوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے۔ صرف سال 2020 میں ہی ریچھوں کی جانب سے ایک درجن حملے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک دو افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ اس کے بعد حکومتی ادارے حرکت میں آئے اور ستمبر کے آخر میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی۔

روبوٹ بھیڑیئے کی چار ٹانگیں ہیں اور یہ خوفناک آنکھوں سے روشنی خارج کرکے بھیڑیئے کی طرح آواز نکالتا ہے ۔ یہ روبوٹ خود انسانوں پر بھی رعب ڈال سکتا ہے اور اب جنگلی ریچھ بھی اس سے ڈرچکے ہیں۔ اسے ایک انجینیئر اوتا سائیکی نے تیار کیا ہے جودوسال میں 70 روبوٹ فروخت کرچکےہیں۔

واضح رہے کہ جاپان میں خاص نسل کے بھیڑیئے پائے جاتے تھے۔ ایک صدی قبل بہت سے علاقوں پر ان کا راج تھا۔ حیوانات کے ماہرین کے مطابق اس سال ریچھوں کی غذا میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی تلاش میں وہ انسانی آبادی تک جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے علاقوں میں یہ روبوٹ نصب کئے گئے ہیں۔

انڈونیشیا میں کالج کی فیس کی جگہ ناریل جمع ہونے لگے

بالی: انڈونیشیا کے مشہور صوبے بالی میں ایک کالج نے غریب طلباوطالبات سےفیس نہ ہونے کی صورت میں ان سے تازہ ناریل، پودے اور جڑی بوٹیوں کو بطور فیس قبول کرنا شروع کردیا ہے۔

طالبعلموں کو سیاحتی صنعت سکھانے والی وینس ون ٹورزم اکیڈمی سے حال ہی میں 165 طالبعلم فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ یہ اکیڈمی ٹیگالالنگ مٰں واقع ہے۔ جہاں میزبانی اور سیاحت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس مرتبہ کورونا وبا کے تحت طلباوطالبات سے فیس کی بجائے ان سے ناریل وصول کئے گئے۔ اس کے علاوہ طالبعلموں کی جانب سے جڑی بوٹیاں اور سوہنجنا کے پتے بھی بطور فیس قبول کئے گئے ہیں۔

اگرچہ کورونا وبا پوری دنیا کے لیے سخت معاشی پیغام تھا لیکن ون وینس اکادمی نے اپنے طالبعلموں کا خاص احساس کیا اور ہر درجے پر انہیں سہولت فراہم کی۔ اکیڈمی کے سربراہ ویان پاسک ادی پوترا نے بتایا کہ طالبعلموں سے تین قسطوں میں فیس لی گئی ہے۔ پہلی قسط میں 50، دوسری میں 20 ار تیسری میں 30 فیصد فیس وصول کی گئی۔ جو طالبعلم فیس نہ دے سکے انہیں کہا گیا کہ وہ ناریل دے سکتے ہیں جس کا تیل نکال کر فروخت کیا گیا۔ اس کے علاوہ مورنگا درخت کے پتے اور ایک مشہور ادویاتی پودے گوتو کولا کے پتے بھی قبول کئے گئے۔ ان اشیا کو ملاکر نباتاتی صابن بناکر کیمپس میں فروخت کئے گئے تاکہ اس سے رقم حاصل کی جاسکے۔

ون وینس اکیڈمی کے شاگردوں کو تین گروپوں میں تقسیم کرکے مکمل احتیاط کے ساتھ تین شفٹوں میں پڑھایا گیا۔ لیکن ہر موقع پر سینی ٹیشن، ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کا سخت خیال رکھا گیا۔ اس وقت بھی انڈونیشیا میں کورونا لاک ڈاؤن اور کرفیو کی سی صورتحال ہے۔

ناسا نے’’پراسرار خلائی آوازوں‘‘ کی پلے لسٹ جاری کردی

کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے اپنے خلائی جہازوں سے ریکارڈ کی ہوئی مختلف خلائی آوازوں کا انتخاب ایک پلے لسٹ کی شکل میں ساؤنڈ کلاؤڈ پر جاری کردیا ہے۔

ان میں مشتری کے دبیز بادلوں اور مریخی زلزلوں کی حقیقی آوازوں کے علاوہ چندرا ایکسرے خلائی دوربین، وائیجر اوّل خلائی جہاز اور پلانک سیارچے وغیرہ کے ریکارڈ کیے ہوئے ریڈیو سگنلز کو قابلِ سماعت آوازوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ آوازیں اگرچہ خوفزدہ کرنے والی تو نہیں لیکن عجیب و غریب ضرور ہیں جنہیں سن کر یوں لگتا ہے جیسے کوئی چیز ٹوٹ رہی ہو، کھڑکھڑا رہی ہو یا پھر کوئی خلائی مخلوق سیٹیاں بجا رہی ہو۔

واضح رہے کہ آواز کو سفر کرنے کےلیے مادّی واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آواز کی لہریں خلا میں سفر نہیں کرسکتیں۔ البتہ برقی مقناطیسی لہریں (الیکٹرو میگنیٹک ویوز) بڑی سہولت سے، تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے، سفر کرسکتی ہیں۔

روسی شہری نے نئی مرسڈیز کو آگ لگادی

ماسکو: روسی وی لاگر نے اپنی بالکل نئی مرسڈیز کار کو مکمل طور پر جلاکر راکھ کردیا ہے۔ وہ کمپنی کی بعد ازفروخت سہولیات سے مطمئین نہیں تھے۔

نوجوان وی لاگر میخائل لیٹوِن نے قیمتی کار جلانے کی روداد یوٹیوب پر بھی اپ لوڈ کی ہے جسے اب تک ایک کروڑ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ میخائل نے دسمبر 2019 کو بالکل نئی مرسڈیز اے ایم جی ، جی 63 خریدی تھی جس کے لیے انہوں نے ایک لاکھ سترہزار ڈالر ( دو کروڑ 72 لاکھ روپے) خرچ کئے تھے۔ لیکن وہ اپنی گاڑی سے مطمئین نہیں تھے اور ان کی مایوسی غصے میں بدل چکی تھی۔

میخائل کے بقول انہوں نے یہ کار صرف 15 ہزار کلومیٹر تک چلائی تھی اور اس کےبعد کار خراب ہونے لگی۔ گزشتہ دس ماہ سے وہ مختلف ورکشاپ میں آتی اور جاتی رہی۔ کچھ دنوں بعد بار بار اس کی مرمت سے میخائل لیٹوِن تنگ آچکے تھے اور انہوں نے آخرکار اسے نذرِ آتش کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے منظم انداز میں آگ لگادی۔

ذرائع کےمطابق وہ کار خریدنے کے بعد چار مرتبہ مرسڈیز کے ورکشاپ پر گئے لیکن ان کی گاڑی کی تسلی بخش مرمت نہیں ہوسکی۔ پھر چوتھی مرتبہ کمپنی کے مجاز ورکشاپ نے کار ٹھیک کرنے سے انکار کردیا ۔ اس کے بعد وہ میخائل گاڑی لے کر اپنے ایک دوست کے پاس پہنچے جو مرسڈیز کا ماہر کاریگر تھا۔ اس نے بتایا کہ گاڑی میں بعض پرزے اصل نہیں اور کسی اور دکان سے لے کر لگائے گئے ہیں۔

اس پر ان کا غصہ آخری حد کو پہنچا اور انہوں نے اپنی مرسڈیز AMG G63 کو ڈرامائی انداز میں خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسے لے کر وہ ایک سنسان جگہ پر گئے اور ایندھن چھڑک کر کار کو جلاکر بھسم کردیا۔ اس پورے منظر کو انہوں نے ڈرون اور دیگر کیمروں سے فلمبند بھی کیا ہے۔ جلتی ہوئی کار کو دکھاتے ہوئے انہوں نے ڈرامائی روسی میوزک کا استعمال بھی کیا ہے۔

تاہم اس واقعے پر عوام نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے اسے درست قدم قرار دیا جبکہ اکثریت نے کہا کہ وہ اپنا نقصان کم کرنے کے لیے اس کار کو فروخت کرسکتے تھے۔ سوشل میڈیا پر بعض نے اسے مشہور ہونے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔

شیر کی تصویر نے سب کے دل جیت لیے

لندن: وائلڈ لائف فوٹوگرافر کا ایوارڈ ایک ایسی تصویر کو دیا گیا ہے جو خفیہ کیمرے کے ذریعے بنی اور جس میں شیرنی کو درخت کو گلے لگائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

روسی جنگلات میں قائم ’لیوپارڈ نیشنل پارک‘ کے ایک علاقے میں وائلڈ لائف فوٹوگرافر نے خفیہ کمیرہ لگایا جس کے سامنے سے شیر کے گزرتے سے خود کار طور پر تصاویر بننا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کیمرے نے ایک ایسے لمحے کو محفوظ کرلیا جسے انسانی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

اس کیمرے میں محفوظ ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شیرنی کھڑے ہو کر ایک درخت کو ایسے بھینچے ہوئی ہے جیسے کسی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گلے لگایا جاتا ہے۔ یہ پہلی نظر میں کسی زرخیز مصور کی دل آویز تخیل کی آئل پینٹنگ محسوس ہوتی ہے۔

اس تصویر کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی اور فوٹوگرافر سرگے گورشکوف کو سال کا بہترین وائلڈ لائف فوٹو گرافر کے ایوارڈ سے نوازا گیا جس کا اعلان شہزادی کیتھرین مڈلٹن، ٹی وی کے پروڈیوسر کرس پیکہم اور میگن میک کیبن نے لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے زیر اہتمام ایک آن لائن پروگرام میں کیا۔