پنجاب میں 2 اگست سے اسکول کھولنےکےلئے ہدایات جاری

لاہور: محکمہ تعلیم پنجاب نے صوبے بھر میں 2 اگست سے سرکاری و نجی اسکول کھولنے کا مراسلہ جاری کردیا ہے۔

میڈیا کے مطابق پنجاب بھر میں سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اسکول 2 اگست سے کھولے جارہے ہیں، اس حوالے سے محکمہ تعلیم پنجاب نے ضلعی افسران کو ہدایات نامہ جاری کر دیا ہے۔

جاری کئے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 2 اگست سے قبل اسکولوں کی مکمل صفائی کرائی جائے، اسکولوں میں اگی گھاس اور جڑی بوٹیاں فوری تلف کی جائیں، پانی کی لیکیج کو ختم کیا جائے اور انسداد ڈینگی بینرز لگائے جائیں۔

“احتساب قادیانیت”…سبق نمبر 3

“ختم نبوت کورس”

“عقیدہ ختم نبوت ازروئے احادیث اور عقیدہ ختم نبوت پر قادیانی عقیدے کا جائزہ”

ویسے تو عقیدہ ختم نبوت تقریبا 210 سے زائد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے لیکن اس سبق میں ہم عقیدہ ختم نبوت پر 10 احادیث مبارکہ پیش کریں گے ۔

حدیث نمبر1

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ، أَنَّ رَسُولَ اللهِﷺ قَالَ:مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ:هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔لوگ اس کے گرد گھومنے اور عش عش کرنے لگے۔اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہی اینٹ ہوں اور نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔

(صحیح مسلم حدیث نمبر 5961)

حدیث نمبر 2

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ، أَنَّ رَسُولَ اللهِﷺ قَالَ:فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مجھے 6 چیزوں پر انبیاء کرامؑ پر فضیلت دی گئی ۔
1۔مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ۔
2۔رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی۔
3۔مال غنیمت میرے لئےحلال کردیا گیا۔
4۔روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیاگیا۔
5۔مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا۔
6۔مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ۔

(صحیح مسلم حدیث نمبر 1167)

حدیث نمبر 3

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ،سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِﷺ يَقُولُ لَهُ، خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِﷺ:«أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي»

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سناتھا ، آپ ان سے (اس وقت) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جارہے تھے اور علی ؓ نے ان سے کہا تھا :اللہ کےرسول !آپ مجھے عورتوں اوربچوں میں پیچھے چھوڑ کرجارہے ہیں؟تو رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا : تمھیں یہ پسند نہیں کہ تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جوحضرت ہارونؑ کاموسیٰؑ کےساتھ تھا،مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے ۔

( مسلم حدیث نمبر 6220)

حدیث نمبر 4

عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ ؓ،عَنِ النَّبِيِّﷺ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ،

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
کہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوجاتی تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ آجاتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہونگے۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 3455)

حدیث نمبر 5

‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَوْبَانَ ؓ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
میری امت میں 30 جھوٹے پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں ۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

(ترمذی حدیث نمبر 2219)

حدیث نمبر 6

عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ؓ،قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، ‏‏‏فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ۔

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔

(ترمذی حدیث نمبر 2272)

حدیث نمبر 7

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہونگے۔صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 896)

حدیث نمبر 8

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ؓ،قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ؓ ہوتے۔

(ترمذی حدیث نمبر 3686)

حدیث نمبر 9

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ؓ،أَنَّ النَّبِيَّﷺ، قَالَ:«أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ»

حضرت جبیر بن معطم ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں ، میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر مٹادے گا ، میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں،لوگوں کو میرے پیچھے حشر کے میدان میں لایاجائےگا اور میں عاقب (آخر میں آنے والا) ہوں اور عاقب وہ ہوتاہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔

(مسلم حدیث نمبر 6105)

حدیث نمبر 10

عَنْ سَهْلٍ ؓ قَالَ،قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏”بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا”

حضرت سھل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے۔
(یعنی جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں)

(صحیح بخاری حدیث نمبر 6503)

ان دس احادیث مبارکہ سے بھی یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوگئی ہے اور حضورﷺ کے بعد نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی کا اضافہ بھی نہیں ہوگا۔

“عقیدہ ختم نبوت اور قادیانی دھوکہ”

عقیدہ ختم نبوت پر ہمارا یعنی مسلمانوں کا اور قادیانیوں کا اصل اختلاف یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوئی۔

جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نبیوں کی تعداد نعوذ باللہ مرزاقادیانی کے آنے سے مکمل ہوئی ۔ ہم حضورﷺ کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں جبکہ قادیانی نعوذباللہ مرزاقادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ مرزاقادیانی کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔

ذیل میں چند حوالے پیش خدمت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قادیانی مرزاقادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ اور آخری نبی سمجھتے ہیں۔

حوالہ نمبر 1

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
“مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ ان میں سے ایک نام خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے۔”

(روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 333)

حوالہ نمبر 2

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
“پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے ۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔”

(روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 178)

حوالہ نمبر 3

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
“وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی نبوت مجھے عطاکی گئی۔اور اس نبوت کے مقابل پر تمام دنیا اب بےدست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔
ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانے کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہوگیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے کوئی اور کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں رہی۔”

(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 215)

حوالہ نمبر 4

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
“جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، قطب ،ابدال وغیرہ اس امت میں سے گزر چکے ہیں ۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا ۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے صرف میں ہی محسوس کیا گیا ہوں۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔”

(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406)

حوالہ نمبر 5

مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
“ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا۔مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں۔اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔”

(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61)

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 1

سرزمینِ عرب اور قومِ عرب کا مختصر جائزہ:

آج سے سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کے تذکرہ سے پہلے بہت ضروری ہے کہ آپ کو سرزمین عرب اور عرب قوم اور اس دور کے عمومی حالات سے روشناس کرایا جاۓ، تاکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے وقت عرب اور دنیا کے حالات کیسے تھے۔

ملک عرب ایک جزیرہ نما ہے، جس کے جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں خلیج فارس و بحیرہ عمان، مغرب میں بحیرہ قلزم ہے، تین اطراف سے پانی میں گھرے اس ملک کے شمال میں شام کا ملک واقع ہے، مجموعی طور پر اس ملک کا اکثر حصہ ریگستانوں اور غیر آباد، بےآب و گیاہ وادیوں پر مشتمل ہے، جبکہ چند علاقے اپنی سرسبزی اور شادابی کے لیے بھی مشھور ہیں۔ طبعی لحاظ سے اس ملک کے پانچ حصے ہیں۔

یمن:

یمن جزیرہ عرب کا سب سے زرخیز علاقہ رہا ہے، جس کو پر امن ہونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا، آب وہوا معتدل ہے اور اس کے پہاڑوں کے درمیان وسیع و شاداب وادیاں ہیں، جہاں پھل و سبزیاں بکثرت پیدا ہوتے ہیں، قوم “سبا” کا مسکن عرب کا یہی علاقہ تھا جس نے آبپاشی کے لیے بہت سے بند (ڈیم) بناۓ جن میں “مأرب” نام کا مشھور بند بھی تھا، اس قوم کی نافرمانی کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو یہی بند ٹوٹ گیا تھا اور ایک عظیم سیلاب آیا جس کی وجہ سے قوم سبا عرب کے طول و عرض میں منتشر ہوگئی۔

حجاز:

یمن کے شمال میں حجاز کا علاقہ واقع ہے، حجاز ملک عرب کا وہ حصہ ہے جسے اللہ نے نور ہدایت کی شمع فروزاں کرنے کے لیے منتخب کیا، اس خطہ کا مرکزی شھر مکہ مکرمہ ہے جو بے آب و گیاہ وادیوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک ریگستانی علاقہ ہے، حجاز کا دوسرا اہم شھر یثرب ہے، جو بعد میں مدینۃ النبی کہلایا، جبکہ مکہ کے مشرق میں طائف کا شھر ہے جو اپنے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں اور سایہ دار نخلستانوں اور مختلف پھلوں کی کثرت کی وجہ سے عرب کے ریگستان میں جنت ارضی کی مثل ہے، حجاز میں بدر، احد، بئر معونہ، حدیبیہ اور خیبر کی وادیاں بھی قابل ذکر ہیں۔

نجد:

ملک عرب کا ایک اہم حصہ نجد ہے، جو حجاز کے مشرق میں ہے اور جہاں آج کل سعودی عرب کا دارالحکومت “الریاض” واقع ہے۔

حضرموت:

یہ یمن کے مشرق میں ساحلی علاقہ ہے، بظاہر ویران علاقہ ہے، پرانے زمانے میں یہاں “ظفار” اور “شیبان” نامی دو شھر تھے۔

مشرقی ساحلی علاقے (عرب امارات):

ان میں عمان، الاحساء اور بحرین کے علاقے شامل ہیں، یہاں سے پرانے زمانے میں سمندر سے موتی نکالے جاتے تھے، جبکہ آج کل یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔

وادی سَیناء:

حجاز کے شمال مشرق میں خلیج سویز اور خلیج ایلہ کے درمیان وادی سیناء کا علاقہ ہے، جہاں قوم موسی’ علیہ السلام چالیس سال تک صحرانوردی کرتی رہی، طور سیناء بھی یہیں واقع ہے، جہاں حضرت موسی’ علیہ السلام کو تورات کی تختیاں دی گئیں۔

نوٹ:

ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اصل ملک عرب میں آج کے سعودی عرب، یمن، بحرین، عمان کا علاقہ شامل تھا جبکہ شام، عراق اور مصر جیسے ممالک بعد میں فتح ہوۓ اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وہاں نقل مکانی کرکے آباد ہوئی اور نتیجتاً یہ ملک بھی عربی رنگ میں ڈھل گئے، لیکن اصل عرب علاقہ وہی ہے جو موجودہ سعودیہ، بحرین، عمان اور یمن کے علاقہ پر مشتمل ہے اور اس جزیرہ نما کی شکل نقشہ میں واضح طور دیکھی جاسکتی ہے۔

عرب کو “عرب” کا نام کیوں دیا گیا؟

اس کے متعلق دو آراء ہیں۔ ایک راۓ کے مطابق عرب کے لفظی معنی “فصاحت اور زبان آوری” کے ہیں۔ عربی لوگ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دیگر اقوام کو اپنا ہم پایہ اور ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے، اس لیے اپنے آپ کو عرب (فصیح البیان) اور باقی دنیا کو عجم (گونگا) کہتے تھے۔

دوسری راۓ کے مطابق لفظ عرب “عربہ” سے نکلا ہے، جس کے معنی صحرا اور ریگستان کے ہیں، چونکہ اس ملک کا بیشتر حصہ دشت و صحرا پر مشتمل ہے، اس لیے سارے ملک کو عرب کہا جانے لگا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

“احتساب قادیانیت”…سبق نمبر 2

“ختم نبوت کورس”

سبق نمبر 2

“آیت خاتم النبیین کی علمی تحقیقی تفسیر”

قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ۔

( محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں ، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے )

(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 40)

“آیت کا شان نزول ”

عرب معاشرے میں یہ قبیح رسم موجود تھی کہ وہ لےپالک بیٹے کو حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور اس لےپالک کو تمام احوال و احکام میں بھی حقیقی بیٹا ہی سمجھتے تھے اور مرنے کے بعد وراثت،حلت و حرمت ،رشتہ ناطہ وغیرہ تمام احکام میں بھی حقیقی بیٹا ہی تصور کرتے تھے ۔

جس طرح نسبی بیٹے کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے حقیقی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے اسی طرح وہ لےپالک بیٹے کی طلاق یافتہ یا بیوہ بیوی سے نکاح کو حرام سمجھتے تھے ۔

اس آیت میں اللہ تعالٰی نے ان کی قبیح رسم کا خاتمہ فرمایا ۔

حضرت زید ؓ بن حارث حضورﷺ کے غلام تھے ۔ حضورﷺ نے انہیں آزاد کرکے اپنا بیٹا بنالیا۔ اور صحابہ کرام ؓ نے بھی ان کو زید ؓ بن حارث کی بجائے زید ؓ بن محمد کہنا شروع کردیا تھا ۔

حضرت زید ؓ بن حارث کی اپنی بیوی حضرت زینب ؓ سے ناچاتی ہوگئی اور انہوں نے حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دی ۔

تو اللہ تعالٰی نے حضورﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ حضرت زینب ؓ سے نکاح فرمالیں۔ تاکہ اس قبیح رسم کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے۔

جب حضور ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے نکاح فرمالیا تو مشرکین نے اعتراض شروع کر دیا کہ آپ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔

چنانچہ جواب میں اللہ تعالٰی نے یہ آیات نازل فرمایئں۔ اس ایک فقرے میں ان تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے جو مخالفین نبیﷺ کے اس نکاح پر کر رہے تھے ۔

ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپﷺ کی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے ۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ محمّد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا ؟ تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمدﷺ کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں ۔

ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اچھا ، اگر منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہے تب بھی اس کی چھوڑی ہوئی عورت سے نکاح کر لینا زیادہ سے زیادہ بس جائز ہی ہو سکتا تھا ، آخر اس کا کرنا کیا ضرور تھا ۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا مگر وہ اللہ کے رسولﷺ ہیں ، یعنی رسول ہونے کی حیثیت سے ان پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ جس حلال چیز کو تمہاری رسموں نے خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے اس کے بارے میں تمام تعصبات کا خاتمہ کر دیں اور اس کی حلت کے معاملے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہنے دیں ۔

پھر مزید تاکید کے لیے فرمایا اور وہ خاتم النبیین ہیں ، یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح ان کے زمانے میں نافذ ہونے سے رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی یہ کسر پوری کر دے ، لہٰذا یہ اور بھی ضروری ہو گیا تھا کہ اس رسم جاہلیت کا خاتمہ وہ خود ہی کر کے جائیں ۔

اس کے بعد مزید زور دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ اس وقت محمد ﷺ کے ہاتھوں اس رسم جاہلیت کو ختم کرا دینا کیوں ضروری تھا اور ایسا نہ کرنے میں کیا قباحت تھی ۔

وہ جانتا ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی نبی آنے والا نہیں ہے لہٰذا اگر اپنے آخری نبی کے ذریعہ سے اس نے اس رسم کا خاتمہ اب نہ کرایا تو پھر کوئی دوسری ہستی دنیا میں ایسی نہ ہو گی جس کے توڑنے سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے ۔ بعد کے مصلحین اگر اسے توڑیں گے بھی تو ان میں سے کسی کا فعل بھی اپنے پیچھے ایسا دائمی اور عالمگیر اقتدار نہ رکھے گا کہ ہر ملک اور ہر زمانے میں لوگ اس کا اتباع کرنے لگیں ، اور ان میں سے کسی کی شخصیت بھی اپنے اندر اس تقدس کی حامل نہ ہو گی کہ کسی فعل کا محض اس کی سنت ہونا ہی لوگوں کے دلوں سے کراہیت کے ہر تصور کا قلع قمع کر دے ۔

“آیت خاتم النبیین کی تفسیر القرآن بالقرآن”

قرآن پاک میں 7 جگہ پر ختم کے مادے سے الفاظ آئے ہیں ۔
1۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ۔

اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے ۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے ۔

(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 7)

2۔ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰہُ سَمۡعَکُمۡ وَ اَبۡصَارَکُمۡ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ مَّنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِہٖ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمۡ یَصۡدِفُوۡنَ ۔

( اے پیغمبر ! ان سے ) کہو : ذرا مجھے بتاؤ کہ اگر اللہ تمہاری سننے کی طاقت اور تمہاری آنکھیں تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے ، تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں لاکر دیدے؟ دیکھو ہم کیسے کیسے مختلف طریقوں سے دلائل بیان کرتے ہیں ، پھر بھی یہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں ۔

(سورۃ الاعراف آیت نمبر 46)

3۔ اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمۡعِہٖ وَ قَلۡبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ۔

پھر کیا تم نے اسے بھی دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی نفسانی خواہش کو بنا لیا ہے ، اور علم کے باوجود اللہ نے اسے گمراہی میں ڈال دیا ، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ۔ اب اللہ کے بعد کون ہے جو اسے راستے پر لائے؟ کیا پھر بھی تم لوگ سبق نہیں لیتے؟

(سورۃ الجاثیہ آیت نمبر 23)

4۔ اَلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤی اَفۡوَاہِہِمۡ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ تَشۡہَدُ اَرۡجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ۔

آج کے دن ہم ان کے منہ پر مہر لگادیں گے ، اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے ، اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کمائی کیا کرتے تھے ۔

(سورۃ یس آیت نمبر 65)

5۔ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۚ فَاِنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخۡتِمۡ عَلٰی قَلۡبِکَ ؕ وَ یَمۡحُ اللّٰہُ الۡبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ۔

بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ کلام خود گھڑ کر جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے لگا دیا ہے ؟ حالانکہ اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر لگا دے ، اور اللہ تو باطل کو مٹاتا ہے ، اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت کرتا ہے ، یقینا وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں تک کو جانتا ہے ۔

(سورۃ الشوری آیت نمبر 24)

یُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِیۡقٍ مَّخۡتُوۡمٍ ۔

انہیں ایسی خالص شراب پلائی جائے گی جس پر مہر لگی ہوگی ۔

(سورۃ المطففین آیت نمبر 25)

7۔ خِتٰمُہٗ مِسۡکٌ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلۡیَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ ۔

اس کی مہر بھی مشک ہی مشک ہوگی ۔ اور یہی وہ چیز ہے جس پر للچانے والوں کو بڑھ چڑھ کر للچانا چاہیے ۔

(سورۃ المطففین آیت نمبر 26)

ان سات جگہ پر معنی میں قدر مشترک یہ ہے کہ اس کا معنی یہ کیا جاتا ہے کہ کسی چیز کو اس طرح بند کرنا کہ اندر والی چیز باہر نہ جاسکے اور باہر والی اندر نہ جاسکے۔

مثلا “ختم اللہ علی قلوبھم” اس کا مطلب یہ ہے کہ کفار کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے۔ اب ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوسکتا اور کفر ان کے دل سے باہر نہیں جاسکتا۔

اسی طرح ہماری زیر بحث آیت میں بھی “خاتم النبیین” کا مطلب یہ ہے کہ دائرہ نبوت میں جتنے نبی آنے تھے وہ آچکے ۔ اب دائرہ نبوت میں نیا نبی نہیں آسکتا۔ اسی طرح دائرہ نبوت سے کوئی نبی باہر نہیں جاسکتا ۔

تفسیر القرآن بالقرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورﷺ کے تشریف لانے سے نبیوں کی تعداد پوری ہوچکی ہے۔ اب تاقیامت نیا نبی نہیں آسکتا ۔

“تفسیر “خاتم النبیین ” بالحدیث”

عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا!
“میرے بعد میری امت میں 30 جھوٹے پیدا ہوں گے ان میں سے ہرایک کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ لیکن میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ”

(ترمذی حدیث نمبر 2219 ، باب ما جاء لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون)

اس کے علاوہ ایک اور روایت میں یوں فرمایا۔

“عن أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ ”

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
“بیشک رسالت اور نبوت ( مجھ پر) منقطع ہوچکی ہے۔ اب میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول ہے۔”

(ترمذی حدیث نمبر 2272 ، باب ذھبت النبوة بقیت المبشرات)

ان روایات سے پتہ چلا کہ حضور ﷺنے خود ہی خاتم النبیین کی تشریح فرمادی کہ میرے اوپر رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے اور میرے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ کوئی نیا رسول آئے گا ۔ یعنی نبیوں کی تعداد حضور ﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوچکی ہے۔

“خاتم النبیین کی صحابہ کرام ؓ سے تفسیر ”

تفسیر در منثور میں امام ابن جریرؒ نے حضرت ابوسعید خدری ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے۔ جس میں حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ

حضورﷺ نے فرمایا:

“مثلی و مثل النبیین کمثل رجل بنی دارا فأتمھا إلا لبنة واحدة ، فجئت انا فأتممت تلک اللبنة.”

“میری اور انبیاء کی مثال ایسے ہے۔ جیسے ایک آدمی گھر بنائے اسے مکمل کردے۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دے۔ میں آیا تو اس اینٹ کو مکمل کردیا۔”

(درمنثور (عربی)جلد 12 صفحہ 63 تفسیر در آیت نمبر 40 سورة الأحزاب طبع مصر 2003ء)
(درمنثور (اردو)جلد 5 صفحہ 577 تفسیر در آیت نمبر 40 سورة الأحزاب طبع ضیاء القرآن پبلیکیشنز 2006ء)

تفسیر در منثور میں امام ابن جریرؒ نے حضرت جابر ؓ کی ایک روایت یوں نقل کی ہے۔

“قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمثل رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ،فکان من دخلھا فنظر الیھا قال : ما احسنھا إلا موضع اللبنة فأنا موضع اللبنة، ختم بی الانبیاء”

“حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری اور انبیاء کی مثال ایسے آدمی جیسی ہے۔جو گھر بنائے جیسے ایک آدمی گھر بنائے اسے مکمل کردے۔ اور اسے اچھا بنائے۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دے۔ جو بھی اس گھر میں داخل ہو اسے دیکھے تو کہے کہ کتنا اچھا ہے مگر ایک اینٹ کی جگہ، میں اس اینٹ کی جگہ ہوں۔ مجھ پر انبیاء کو ختم کیا گیا۔”

(درمنثور (عربی)جلد 12 صفحہ 63 تفسیر در آیت نمبر 40 سورة الأحزاب طبع مصر 2003ء)
(درمنثور (اردو)جلد 5 صفحہ 577 تفسیر در آیت نمبر 40 سورة الأحزاب طبع ضیاء القرآن پبلیکیشنز 2006ء)

صحابہ کرام ؓ کی خاتم النبیین کی تفسیر سے بھی پتہ چلا کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوچکی ہے۔ اب تاقیامت کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا ۔

“خاتم النبیین اور اصحاب لغت”

آیئے اب لغت سے خاتم النبیین کا معنی متعین کرتے ہیں۔

امام راغب اصفہانی کی لغات القرآن کی کتاب مفردات القرآن کی تعریف امام سیوطیؒ نے کی ہے۔ اور امام سیوطیؒ قادیانیوں کے نزدیک مجدد بھی ہیں۔ لہذا یہ کتاب قادیانیوں کے نزدیک بھی معتبر ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں۔

“وخاتم النبیین لانہ ختم النبوۃ ای تممھا بمجیئه”

“آنحضرتﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کو ختم کردیا۔ یعنی آپﷺ نے تشریف لاکر نبوت کو تمام فرمادیا۔”

(مفردات راغب صفحہ 275 بحث در لفظ ختم)

لسان العرب عربی لغت کی مشہور و معروف کتاب ہے۔یہ کتاب عرب و عجم میں مستند سمجھی جاتی ہے۔اس میں خاتم النبیین کے بارے میں یوں لکھا گیا ہے۔

“خاتمھم و خاتمھم آخرھم عن اللحیانی و محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء علیہ وعلیھم الصلوۃ والسلام ”

“خاتم القوم زیر کے ساتھ اور خاتم القوم زبر کے ساتھ ، اس کے معنی آخرالقوم ہیں ۔ اور انہیں معانی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے۔ محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں یعنی آخری نبی ہیں”

یہ تو صرف لغت کی 2 کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے جبکہ لغت کی تقریبا تمام کتابوں میں خاتم النبیین کا یہی مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

لیجئے لغت سے بھی خاتم النبیین کا یہی مطلب ثابت ہوا کہ حضورﷺ کے تشریف لانے سے نبیوں کی تعداد مکمل ہوگئی ہے اب تاقیامت کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا ۔

“خاتم النبيين پر قادیانی اعتراضات اور ان کے علمی تحقیقی جوابات”

قادیانی اعتراض نمبر 1

” کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ لفظ ” خاتم ” کی اضافت ” جمع ” کی طرف ہو اور وہاں اس کا معنی
” آخری ” آیا ہو ، یہ چیلنج سو سال سے دیا جارہا ہے لیکن کوئی اس کو توڑ نہیں سکا ”

قادیانی اعتراض کا جواب

مرزاصاحب نے لکھا ہے کہ

“خاتم الخلفاء یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے۔ ”

(چشمہ معرفت صفحہ 318 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 333 )

یہاں ” خاتم ” کی اضافت ” جمع ” کی طرف ہے اور مرزا صاحب نے اسکا ترجمہ کیا ہے ” آخری خلیفہ ” واضح رہے یہ کتاب مرزا صاحب کی زندگی کی آخری کتابوں میں سے ہے۔

قادیانی اعتراض نمبر 2

” ہم نے مرزا جی کی تحریروں سے نہیں پوچھا ، ہم نے لغت کی کتابوں اور عرب محاوارات سے پوچھا ہے اس لئے ہمارے سامنے مرزا جی کی تحریریں نہ پیش کریں۔”

قادیانی اعتراض کا جواب

آپ کی تسلی کے لئے لغت سے بھی ثابت کر دیتے ہیں ، غور سے پڑھیے گا۔

1۔” تاج العروس” میں ہے کہ :

” والخاتم آخر القوم کالخاتم ومنه قوله تعالیٰ خاتم النبیین أی آخرھم ”

خاتم کا مطلب ہوتا ہے قوم کا آخری آدمی (یعنی جب خاتم القوم بولا جائے ) اور اسی سے اللہ کا یہ فرمان ہے کہ وخاتم النبیین جسکا مطلب ہے آخری نبی۔

( تاج العروس جلد 32 صفحہ 45 )

2۔”لسان العرب” میں ہے کہ

” وختام القوم وخاتَمھم وخاتِمھم آخرھم ”

جب ختام القوم یا خاتَم القوم یا خاتِم القوم بولا جائے تو اسکا معنی ہوتا ہے قوم کا آخری آدمی
پھر آگے لکھا ہے ” ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین أی آخرھم ” خاتم النبیین کا مطلب ہے آخری نبی۔

( لسان العرب جلد 12 صفحہ 162 )

3۔”کلیات ابی البقاء” میں ہے کہ

“وتسمیة نبینا خاتم الانبیاء لآن الخاتم آخر القوم ”

ہمارے نبی کریمﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا گیا ، کیونکہ خاتم کسی بھی قوم کے آخری فرد کو کہتے ہیں۔

( کلیات ابی البقاء صفحہ 431 )

قادیانی اعتراض نمبر 3

“ہم نے پوچھا تھا کوئی ایسا حوالہ دکھاؤ جہاں
” خاتم ” کی اضافت ” جمع ” کی طرف ہو ، تم نے
” خاتم القوم ” دکھایا ، یہ ” قوم ” تو واحد ہے جمع نہیں ، اسکی جمع تو ” اقوام ” آتی ہے.”

قادیانی اعتراض کا جواب

” قوم ” واحد نہیں بلکہ ” اسم جمع ” ہے ، قوم ایک آدمی کو نہیں کہتے بلکہ بہت سے افراد کے مجموعے کو قوم کہتے ہیں ، اس لئے قران کریم اور جہاں بھی ” قوم ” کا لفظ آیا ہے وہاں اسکے بعد اسکے لئے جمع کی ضمیریں اور جمع کے صیغے ہی لائیں گئے ہیں ، تاج العروس میں جہاں ” خاتم القوم ” لکھا ہے اسکے بعد لکھا ہے ” آخرھم ” یعنی انکا آخری ،

یہاں ” ھم ” کی ضمیر ” قوم ” کی طرف لوٹائی گئی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ” قوم ” جمع ہے ، آئیے اب قران کریم سے کچھ مثالیں دیکھتے ہیں۔

آیت نمبر 1

حضرت نوح علیہ اسلام کے بارے میں آیا ہے کہ

” لقد ارسلنا نوحاََ الی قومه فقال یا قوم اعبدوا اللہ مالکم من اله غیرہ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم۔”

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا پس آپ نے ان سے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اسکے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

( سورۂ الاعراف 59 )

اس جگہ نوح علیہ اسلام فرماتے ہیں ” یاقوم ” اے قوم اور آگے انھیں جمع کے صیغے سے خطاب کرتے ہیں ، ” اعبدوا ” ، ” مالکم ” اور ” علیکم ” کے ساتھ ، ثابت ہوا قوم جمع ہے۔

آیت نمبر 2

ایک جگہ ارشاد ہے

” وما ارسلنا من رسول الابلسان قومه لیبین لھم ”

نہیں بیجھا ہم نے کوئی رسول مگر وہی زبان بولنے والا جو اسکی قوم کی ہو تاکہ وہ ان کے لئے ( اللہ کی بات ) کھول کر بیان کر سکے

( سورۂ ابراھیم 4 )

یہاں قوم کا ذکر کر کے ” لیبین لھم ” میں ” ھم ” کی ضمیر جمع لائی گئی جو اس بات کی دلیل ہے کہ قوم جمع ہے۔

آیت نمبر 3

ایک اور جگہ نوح علیہ اسلام کا ذکر ہے ۔

” لقد ارسلنا نوحاََ الی قومه فلبث فیھم الف سنة الا خمسین عاما ”

پس ہم نے بیجھا نوح علیہ اسلام کو انکی قوم کی طرف پس وہ رہے ان میں پچاس کم ہزار سال ۔

( سورۂ العنکبوت 14 )

یہاں بھی ” قوم ” کا ذکر کرکے فرمایا ” فیھم ” اور یہ ” ھم ” کی ضمیر جمع کی ہے جو قوم کی طرف لوٹائی گئی۔
قران کریم ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے ، قوم کا لفظ جہاں بھی آیا ہے اسکی طرف لوٹائی جانے والی ضمیر اور صیغے جمع ہی آئے ہیں اس لئے اسمیں کوئی شک نہیں کہ یہ اسم جمع ہے جو ایسے گروہ کے لئے بولا جاتا ہے جس کے بہت سے افراد ہوں ، اور ” اقوام ” اسکی جمع الجمع ہے۔

قادیانی اعتراض نمبر 4

” عرب محاورے میں جہاں بھی ” خاتم” کی اضافت ” جمع ” کی طرف آئی ہے وہاں اسکا معنی آخری ہو ہی نہیں سکتا بہت سے لوگوں کو خاتم المحدثین ، خاتم الفقہاء یا خاتم المفسرین کا خطاب دیا گیا ہے ، کیا انکے بعد محدثین ، فقہاء ، مفسرین آنا بند ہو گئے تھے ؟

قادیانی اعتراض کا جواب

” اگر کسی انسان نے کسی انسان کے بارے میں یہ لفظ بولا ہے تو چونکہ انسان عالم الغیب نہیں ہے اس لئے یہی دلیل ہے کہ وہ صرف اپنے زمانے کے بارے میں بات کر رہا ہے ورنہ اسے معلوم ہی نہیں کہ بعد میں اس سے بڑا محدث ، فقیہ ، یا مفسر بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

نیز یہاں تو سب سے زیادہ ” افضل ” والا معنی بھی نہیں ہو سکتا اور نہ اسکا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ اب اس محدث یا فقیہ یا مفسر کی مہر سے ظلی بروزی مفسر یا محدث بنے گے ، اب مرزائی متعرض ہی بتائے کہ جہاں کسی انسان نے کسی دوسرے انسان کے بارے میں ” خاتم المحدثین یا خاتم المفسرین ” لکھا ہے تو اس کے وہ کیا معنی کرتے ہیں ؟ سب آخری مفسر ، سب سے افضل مفسر ، یا ایسا مفسر جس کی مہر سے محدث یا مفسر بنے گے ؟؟؟

آپ اپنے معنی بیان کرو تاکہ بات اس پر آگے چلے ، ہمارے نزدیک تو صرف یہ تمام مبالغہ کے لئے ہے اور کچھ نہیں ، اور کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ آج کے بعد کوئی مفسر یا کوئی محدث ایسا پیدا ہو ہی نہیں سکتا جو اسکے زمانے کے محدثین یا مفسرین سے بڑا ہو ، لیکن اللہ عالم الغیوب ہے جب کسی کے بارے میں فرمائے ” خاتم النبیین ” تو وہاں خاتم کا معنی حقیقی لینے میں کوئی خرابی نہیں کیوں کا اللہ کو علم ہے اب قیامت تک کوئی نبی نہیں پیدا ہونے والا۔

قادیانی اعتراض نمبر 5

جب قادیانیوں کو کہا جاتا ہے کہ مرزاصاحب نے خاتم الاولاد کا مطلب آخری اولاد لیا ہے تو ان کی من گھرٹ دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ لفظ خاتِم ہےخاتَم نہیں ہے ۔

(یاد رہے کہ مرزا صاحب نے جہاں بھی خاتم لکھا وہاں اس کی کوئی وضاحت نہیں کی)

قادیانی اعتراض کا جواب

خاتَم اور خاتِم کا معنی

پہلی بات تو یہ ہے کہ خاتَم اور خاتِم کا یہ من گھرٹ فرق جو مرزائی کرتے ہیں کیا لغت عرب میں اس کا وجود ہے ؟؟؟

دو تین کتابوں کے حوالے پیش خدمت ہیں ورنہ پچاسوں کتابیں ہیں جو اس معنی کی تائید میں پیش کی جا سکتی ہیں۔


صاحبِ لسانُ العرب علام ابن منظور جو ساتویں صدی میں کے بہترین عالم گزرے ہیں۔

انہوں نے اپنی کتاب میں یہ تشریح کی ہے

” والخَتُمُ ، الخَاتِم ، الخَاتَمُ ، والخَيْتَامُ كُلَّها بعنى واحدٍ و معناها أخيرها”

اور ان تمام کا معنی ایک ہی ہے اور وہ کیا کسی چیز کا اخیر۔ختم کرنے والا۔۔
کہتے ہیں ” خِتامُ الودای ،خاتَم الوادى ،خاتِم الوادى، أخير الوادى ” —
وادی کا اخری کنارہ ۔جہاں وادی ختم ہو جاتی ہے ان الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے
اور مزید لکھتے ہیں کہ
” خِتَامُ القوم خاتِمُهُمْ و القوم وخَاتَمُهُم أخرهم

( لسانُ العرب جلد 12 صفحہ 164)


ختمام القوم خاتِم القوم خاتَم القوم سب کا ایک معنی اخر القوم ۔۔۔۔

” والخاتَم والخاتِم:من أسماه النبىﷺ معناہ: آخر الانبیاء :وقال اللہ تعالی ☆ خاتَم النبین☆ ”

(تہذیب اللغہ جلد 7 صفحہ 316)
(لسانُ العرب جلد12 صفحہ 164)

(تا كے زیر سے) خاتِم اور (تا کے زبر سے) خاتَم دونوں کا معنی آخر الانبیاء ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا خاتَم النبین ۔

معلوم ہوا خاتَم هو یا خاتِم دونوں کا معنی ایک ہی ہے ۔کسی چیز کا کنارہ ،کسی چیز کی انتہا ، جہاں پر کوئی چیز ختم ہو جاتی ہے اس کو خاتَم بھی کہتے ہیں خاتِم بھی کہتے ہیں ،ختام، اور ختم بھی کہتے ہیں یہ تمام کے تمام الفاظ ہم معنی ہیں مترادف ہیں ۔۔۔

یہ معنی آج کے علماء نے نہیں لکھا کہ مرزا صاحب کے تعصب میں مولویوں نے کتابوں میں لکھ دیا ہو بلکہ یہ معنی ان علماء کرام نے لکھا جو مرزا صاحب کے آنے سے ہزاروں برس پہلے گزر چکے ہیں اور جن کی کتابیں لغت عرب میں سند کی حثییت رکھتی ہیں ۔جن کی زبان میں قران نازل ہوا ان علماء کرام کی تحقیق ہے کہ خاتَم ہو یا خاتِم معنی ایک ہی ہے آخر الشئ اور پھر اس کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں جس طرح اللہ تعالی فرماتا “خاتم النبین” “آخرالنبین” سب نبیوں کے آخر میں آنے والا ۔۔۔

اس تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ خاتَم کے معنی آخری ہی ہیں اس کے بعد یہ محض دھوکہ فریب اور دجل و تلبیس ہے اگر یہ کہا جائے کہ خاتَم کے معنی اور خاتِم کے معنی اور ہیں
ہمارے نزدیک علماء حق اور ائمہ لغت کی تحقیق کے مطابق لفظ خاتَم ہو یا خاتِم اللہ کے محبوبﷺ کے بعد اب اور کوئی نبی نہیں ہو سکتا ۔

“خاتم النبیین کا ترجمہ اور قادیانی جماعت ”

معزز قارئین ہم نے آیت خاتم النبیین پر علمی ،تحقیقی گفتگو سے ثابت کیا کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کے تشریف لانے سے نبیوں کی تعداد مکمل ہوچکی ہے اب تاقیامت کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا ۔

اب ہم قادیانی جماعت کے اس آیت کے ترجمے اور مفہوم کا جائزہ لیتے ہیں اور آپ کو بتاتے ہیں کہ قادیانیوں کا ترجمہ کیوں غلط ہے۔

مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ

“خاتم النبیین کا مطلب ہے کہ حضورﷺ کی کامل اتباع سے نبی بنیں گے ”

(حقیقة الوحی صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 100)

قادیانیوں کے خاتم النبیین کے کئے گئے ترجمے کے غلط ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔

وجہ نمبر 1

مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ
“مجھے نبوت تو ماں کے پیٹ میں ہی ملی تھی۔ ”

(حقیقة الوحی صفحہ 67 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 70)

ایک طرف تو کہتے ہیں کہ نبوت حضورﷺ کی اتباع سے ملتی ہے جبکہ یہاں تو مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے نبوت ماں کے پیٹ میں ہی ملی تھی۔ اب قارئین خود فیصلہ کریں کہ مرزا صاحب کی کون سی بات درست ہے۔

وجہ نمبر 2

مرزا صاحب نے خود خاتم النبیین کا ایک جگہ ترجمہ لکھا ہے کہ

“ختم کرنے والا ہے سب نبیوں کا”

(ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 614 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 431)

اگر یہ ترجمہ غلط ہے تو مرزا صاحب نے یہ ترجمہ کیوں لکھا؟؟

وجہ نمبر 3

مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ
“میرے پیدا ہونے کے بعد میرے والدین کے گھر میں کوئی اور لڑکا یا لڑکی نہیں ہوئی ۔ گویا میں اپنے والدین کے لئے خاتم الاولاد تھا”

(تریاق القلوب صفحہ 157 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479)

اگر خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کی مہر سے نبی بنتے ہیں تو خاتم الاولاد کا بھی یہی مطلب ہونا چاہیے کہ مرزا صاحب کی مہر سے مرزا صاحب کے والدین کے گھر میں اولاد پیدا ہوگی۔ کیا قادیانی یہ معنی خاتم الاولاد کا کریں گے؟

یقینا یہ ترجمہ نہیں کریں گے تو پتہ چلا کہ قادیانیوں کا کیا گیا ترجمہ سرے سے ہی باطل ہے۔

وجہ نمبر 4

ایک طرف قادیانی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی مہر سے ایک سے زائد نبی بنیں گے۔ جبکہ دوسری طرف مرزا صاحب اور قادیانی جماعت کا موقف ہے کہ صرف مرزاقادیانی کو ہی حضورﷺ کی کامل اتباع سے نبوت ملی ہے۔

(حقیقة الوحی صفحہ 391 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406 )

مرزا صاحب کے بعد خلافت ہے نبوت نہیں۔ تو اس طرح حضورﷺ خاتم النبی ہوئے، خاتم النبیین نہ ہوئے۔ اس لئے خود یہ ترجمہ قادیانیوں کے لحاظ سے بھی باطل ہے۔

وجہ نمبر 5

اگر خاتم النبیین کا یہ مطلب لیا جائے کہ حضورﷺ کی اتباع سے نبوت ملےگی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ،حضرت آدم علیہ السلام سے لےکر حضرت عیسی علیہ السلام تک انبیاء کے خاتم نہیں بلکہ اپنے سے بعد آنے والے نبیوں کے خاتم ہیں۔ اور یہ بات قرآن و حدیث کی منشاء کے خلاف ہے۔

وجہ نمبر 6

یہ معنی محاورات عرب کے بھی بالکل خلاف ہے کیونکہ پھر خاتم القوم اور خاتم المھاجرین کے بھی یہی معنی کرنے پڑیں گے کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور اس کی مہر سے مھاجر بنتے ہیں۔ اور یہ ترجمہ خود قادیانیوں کے نزدیک بھی باطل ہے۔

قادیانیوں کو چیلنج

اگر کوئی قادیانی قرآن پاک کی کسی ایک آیت سے یا کسی ایک حدیث سے یا کسی صحابی یا تابعی کے قول سے خاتم النبیین کا یہ معنی دکھا دے کہ حضورﷺ کی مہر سے یعنی کامل اتباع سے نبی بنتے ہیں تو اس قادیانی کو منہ مانگا انعام دیا جائے گا ۔
لیکن

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

“احتساب قادیانیت”

سبق نمبر 1

“عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت”

عقیدہ ختم نبوت کیا ہے؟

عقیدہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے پوری ہوچکی ہے ۔ حضورﷺ کے بعد نبوت اور رسالت ختم ہوچکی ہے۔ اب تاقیامت کسی بھی انسان کو نبوت یا رسالت نہیں ملے گی۔ یعنی تاقیامت نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی کا اضافہ نہیں ہوگا۔

“قرآن مجید کا اسلوب ”

قرآن مجید نے جہاں اللہ تعالٰی کی وحدانیت، فرشتوں پر ایمان ،قیامت پر ایمان کو جزو ایمان قرار دیا ہے۔ وہاں سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت و رسالت پر ایمان بھی ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔

لیکن پورے قرآن میں ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ حضورﷺ کے بعد بھی کسی نئے نبی کی وحی یا نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ نبوت و رسالت حضورﷺ کے تشریف لانے کے بعد منقطع ہوچکی ہے۔ اب تاقیامت کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا ۔ کیونکہ اگر کسی نئے نبی یا رسول نے آنا ہوتا تو قرآن جیسی جامع کتاب میں اس کا ذکر ضرور موجود ہوتا۔

اب ہم چند آیات آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جن میں سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان پر ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ لیکن حضورﷺ کے بعد کسی نئے نبی پر ہونے والی وحی پر یا نئے نبی کی نبوت پر ایمان لانے کا کوئی ذکر اشارتا، کنایتا بھی نہیں ہے۔

آیت نمبر 1

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ۔

اور(ایمان والے وہ ہیں)جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی ۔اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں۔

(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 4)

آیت نمبر 2

لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ۔

البتہ ان (بنی اسرائیل) میں سے جو لوگ علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں وہ اس (کلام) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو (اے پیغمبر) تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا اور قابل تعریف ہیں وہ لوگ جو نماز قائم کرنے والے ہیں ، زکوٰۃ دینے والے ہیں اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔

(سورۃ النساء آیت نمبر 162)

آیت نمبر 3

وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ۔

اور یہ حقیقت ہے کہ تم سے اور تم سے پہلے تمام پیغمبروں سے وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا ۔ اور تم یقینی طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔

(سورۃ الزمر آیت نمبر 65)

آیت نمبر 4

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ۔

تم (ان سے) کہو کہ : اے اہل کتاب ! تمہیں اس کے سوا ہماری کون سی بات بری لگتی ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کلام ہم پر اتارا گیا اس پر اور جو پہلے اتارا گیا تھا اس پر ایمان لے آئے ہیں ، جبکہ تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔

(سورۃ المائدہ آیت نمبر 59)

آیت نمبر 5

کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ۔

(اے پیغمبر) اللہ جو عزیز و حکیم ہے ، تم پر اور تم سے پہلے جو (پیغمبر) ہوئے ہیں ، ان پر اسی طرح وحی نازل کرتا ہے۔

(سورۃ الشوری آیت نمبر 3)

ان تمام آیات میں بلکہ پورے قرآن میں حضور ﷺ اور حضور ﷺ سے پہلے نازل ہونے والی وحی کا ہی ذکر ہے۔ حضورﷺ کے بعد کسی نئے نبی پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر نہیں۔

عقیدہ ختم نبوت اتنا ضروری اور اہم عقیدہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے عالم ارواح میں، عالم دنیا میں، عالم برزخ میں، عالم آخرت میں، حجتہ الوداع کے موقع پر ،درود شریف میں اور معراج کے موقع پر اس کا تذکرہ کروایا۔

“عالم ارواح میں عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ ”

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ۔

اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ : اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں ، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے ، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے ، اور ضرور اس کی مدد کرو گے ۔ اللہ نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ : کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا تھا : ہم اقرار کرتے ہیں ۔ اللہ نے کہا : تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ ، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔

(آل عمران آیت نمبر 81)

اس آیت کریمہ میں بھی حضورﷺ کی آمد کا ذکر ہے کہ اگر وہ آخری نبی کسی دوسرے نبی کے زمانہ نبوت میں آ گئے تو اس نبی کو اپنی نبوت چھوڑ کر نبی آخر الزماںﷺ کی پیروی کرنی پڑے گی ۔ یعنی عالم ارواح میں بھی حضور ﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ ہورہا ہے۔

“عالم دنیا میں عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ”

عالم دنیا میں سب سے پہلے سیدنا آدمؑ پیدا ہوئے لیکن حضورﷺ نے فرمایا کہ

“انی عنداللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طیینتہ”

میں اس وقت بھی (لوح محفوظ میں) آخری نبی لکھا ہوا تھا جب آدمؑ ابھی گارے میں تھے۔

(مشکوۃ حدیث نمبر 5759 ، باب فضائل سید المرسلینﷺ)
(کنزالعمال حدیث نمبر 31960 ٬ باب فی فضائل متفرقة تنبی عن التحدث بالنعم و فیه ذکر ذکر نسبه ﷺ)

اللہ تعالٰی نے دنیا میں جس نبی کو بھی بھیجا اس کے سامنے حضور ﷺ کے آخری نبی ہونے کا ذکر یوں فرمایا ۔

“لم یبعث اللہ نبیا آدم ومن بعدہ الا اخذ اللہ علیہ العھد لئن بعث محمدﷺ وھو حی لیومنن بہ ولینصرنہ ”

حق تعالی نے انبیاء کرامؑ میں سے جس کو بھی مبعوث فرمایا تو یہ عہد ان سے ضرور لیا کہ اگر ان کی زندگی میں محمدﷺ تشریف لے آئیں تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔

(تفسیر ابن جریر (عربی) جلد 5 صفحہ 540 تفسیر آیت نمبر 80 سورہ آل عمران طبع مصر 2001ء)

اس کے علاوہ حضورﷺ نے فرمایا کہ

“بین کتفی آدم مکتوب محمد رسول اللہ خاتم النبیین”

آدمؑ کے دونوں کندھوں کے درمیان محمد رسول اللہﷺ آخری نبی لکھا ہوا تھا ۔

(خصائص الکبری جلد 1 صفحہ 19 طبع ممتاز اکیڈمی لاہور )

اس کے علاوہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ

عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول اللہﷺ لما نزل آدم بالھند واستوحش فنزل جبرائیل ۔ فنادی باالاذان اللہ اکبر مرتین۔ اشھد ان لا الہ الااللہ مرتین۔ اشھد ان محمد الرسول اللہ مرتین۔ قال آدم من محمد۔ فقال ھو آخر ولدک من الانبیاء ۔

حضرت ابوہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمؑ جب ہند میں نازل ہوئے تو ان کو (بوجہ تنہائی) وحشت ہوئی تو جبرائیلؑ نازل ہوئے اور اذان پڑھی۔ اللہ اکبر 2 بار پڑھا ۔ اشھد ان لا الہ الااللہ 2 بار پڑھا ۔ اشھد ان محمد الرسول اللہ 2 بار پڑھا۔ آدمؑ نے جبرائیلؑ سے پوچھا محمدﷺ کون ہیں تو جبرائیلؑ نے فرمایا کہ انبیاء کرامؑ کی جماعت میں سے آپؑ کے آخری بیٹے ہیں۔

(کنزالعمال حدیث نمبر 32139 ٬ باب فی فضائل متفرقة تنبی عن التحدث بالنعم و فیه ذکر ذکر نسبه ﷺ)

“عالم برزخ یعنی عالم قبر میں عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ”

قبر میں جب فرشتے مردے سے سوال کریں گے کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے اور تیرے نبی کون سے ہیں۔ تو مردہ جواب دے گا کہ

ربی اللہ وحدہ لاشریک لہ الاسلام دینی محمد نبی وھو خاتم النبیین فیقولان لہ صدقت۔

میرا رب وحدہ لاشریک ہے ۔ میرا دین اسلام ہے ۔ اور محمدﷺ میرے نبی ہیں اور وہ آخری نبی ہیں۔ یہ سن کر فرشتے کہیں گے کہ تو نے سچ کہا ۔

(تفسیر درمنثور (عربی)جلد 14 صفحہ 235 تفسیر سورة الواقعہ آیت نمبر 83 مطبوعہ مصر 2002ء)

(تفسیر درمنثور (اردو ترجمہ) جلد 6 صفحہ 404 تفسیر سورة الواقعہ آیت نمبر 83 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور 2006ء)

“عالم آخرت میں بھی عقیدہ ختم نبوت کا تذکرہ”

“عن ابی ھریرۃ فی حدیث الشفاعتہ فیقول لھم عیسی علیہ السلام ۔۔۔‏‏‏‏‏‏اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ”

حضرت ابو ھریرۃ ؓ سے ایک طویل روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ جب لوگ حضرت عیسیٰؑ سے قیامت کے روز شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو وہ کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جاؤ ۔ لوگ میرے پاس آیئں گے اور کہیں گے اے اللہ کے رسول محمدﷺ آخری نبی۔

(بخاری حدیث نمبر 4712 ٬ کتاب التفسیر٬ باب ذریة من حملنا مع نوح)

لیجئے قیامت کے دن بھی حضورﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ ہوگا۔

“حجتہ الوداع میں ختم نبوت کا تذکرہ”

“عن ابی امامتہ ؓ قال قال رسول اللہﷺ فی خطبتہ یوم حجتہ الوداع ایھاالناس انہ لانبی بعدی ولا امتہ بعدکم”

(حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا اے لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہوگی)

(کنزالعمال حدیث نمبر 12918 ٬ باب حجة الوداع)

خلاصہ

ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضور ﷺ کے تشریف لانے سے پوری ہوچکی ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اتنا ضروری اور اہم عقیدہ ہےکہ عالم ارواح ہو یا عالم دنیا ،عالم برزخ ہو یا عالم آخرت ، ہر جگہ اللہ تعالٰی نے حضورﷺ کے آخری نبی ہونے کے تذکرے کروائے ہیں

حضور ﷺ سے ابلیس کے بیٹے ہامہ کی دلچسپ ملاقات

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روزہم حضور ﷺ کے ہمراہ تہامہ کی ایک پہاڑی پر بیٹھے تھے کہ اچانک ایک بوڑھا ہاتھ میں عصالئے ہوئے حضور ﷺ کے سامنے حاضر ہوا اور سلام عرض کیا ، حضور نے جواب دیا اور فرمایا، اس کی آواز جنوں کی سی ہے ، پھر آپ نے اس سے دریافت کیا تو کون ہے؟

اس نے عرض کیا حضور مین جن ہوں میرانام ہامہ ہے بیٹاہیم کا اعر رہیم بیٹا لاقیس بیٹا ابلیس کا ہے حضور نے فرمایا تو گویا تیرے اور ابلیس کے درمیان دو پشتیں ہیں ، پھر فرمایا اچھا یہ بتاؤتمہاری عمر کتنی ہے؟ اس نے کہا یارسول اللہ جتنی عمر دنیا کی ہے اتنی ہی میری ہے کچھ تھوڑی سی کم ہے حضور جن دنوں قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا اس وقت میں کئی برس کا بچہ ہی تھا مگر بات سمجھتا تھا، پہاڑوں میں دوڑتا پھرتا تھا اور لوگوں کا کھانا وغلہ چوری کرلیا کرتا تھا اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے بھی ڈال لیتا تھا کہ وہ اپنے خویش واقربا سے بدسلوکی کریں۔

حضور ﷺ نے فرمایا: تب تو تم بہت بُرے ہو، اس نے عرض کی حضور مجھے ملامت نہ فرمایئے اس لئے کہ اب میں حضورﷺ کی خدمت میں توبہ کرنے حاضر ہوا ہوں ، یارسول اللہ! میں ے حضرت نوح علیہ السلام سے ملاقات کی ہے اور ایک سال تک ان کے ساتھ ان کی مسجد میں رہاہوں ، اس سے پہلے میں ان کی بارگاہ میں بھی توبہ کرچکا ہوں،حضرت ہود ،حضرت یعقوب،اور حضرت یوسف علیہ السلام کی صحبتوں میں بھی رہ چکا ہوں، اور ان سے تورات سیکھی ہے اور ان کا سلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہنچایا تھا،

اور اے نبیوں کے سردار حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایاتھا کہ اگر تو محمد ﷺ سے ملاقات کرے تو میرا سلام ان کو پہنچانا، سو حضور! اب میں اس امانت سے سبکدوش ہونے کو حاضر ہوا ہوں اور یہ بھی آرزو ہے کہ آ پ اپنی زبان حق ترجمان سے مجھے کچھ کلام اللہ تعلیم فرمایئے، حضور علیہ السلام نے اس سورہٴ مرسلات ، سورہٴ عِم متسیا ٴلون ، اخلاص اور معوذتین اور ذالشمس تعلیم فرمائیں اور یہ بھی فرمایا کہ اسے ہامہ جس وقت تمہیں کوئی احتیاج ہو پھر میرے پاس آجانا اور ہم سے ملاقات نہ چھوڑنا ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور علیہ السلام نے تو وصال فرمایا لیکن ہامہ کی بابت پھر کچھ نہ فرمایا ، خدا جانے ہامہ اب بھی زندہ ہے یا مرگیا ہے۔سبق:ہمارے حضور ﷺ الثقلین اور رسول الکل ہیں اور آپ کی بارگاہِ عالیہ جن وانس کی مرجع ہے۔

تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر کی تعلیم لازمی قرار دے دی گئی

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

کتابی علوم کے ساتھ ہنر کا سیکھنا بھی ضروری ہے

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

آج کے جدید دور میں بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

سمارٹ فونز کا استعمال بچوں کی تعلیمی سر گرمیوں میں بڑی رکاوٹ

یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔