اوپن اے آئی کے ایک ماڈل نے آسٹریلیا کے حکومتی نظام تک رسائی حاصل کرلی

اوپن اے آئی کے ایک اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلیا کے حکومتی ہیلتھ کیئر سسٹم کے ایک پورٹل تک رسائی حاصل کی اور وہاں موجود بعض اہم فائلز کو دیکھا جبکہ سرور پر فائلز بھی تحریر کیں۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے پریس کانفرنس کے دوران واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال قابل قبول نہیں اور اوپن اے آئی کو اے آئی ماڈلز کے لیے بہتر حفاظتی پروٹوکولز اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے محققین ایک اندرونی اے آئی ماڈل کی جانچ کر رہے تھے۔ ماڈل کو عوامی طبی سہولیات کے اخراجات سے متعلق معلومات تلاش کرنے کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کی گئی تھی۔

تاہم آسٹریلیا کے میڈی کیئر اسٹیٹسٹکس رپورٹنگ پورٹل پر 18 جون کو کی گئی اس سرگرمی کے دوران اے آئی ایجنٹ نے بعض رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے عوامی اور اندرونی فائلز تک رسائی حاصل کی۔

رپورٹس کے مطابق اے آئی ایجنٹ نے حکومتی سرور پر اپنی ہدایات بھی تحریر کیں اور طبی اعداد و شمار سمیت اندرونی فائلز کے نام تک رسائی حاصل کی۔

اوپن اے آئی کے ترجمان نے بتایا کہ ماڈل نے آسٹریلیا سے متعلق سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جو کمپنی کے مقصد میں شامل نہیں تھے۔

ترجمان کے مطابق خوش قسمتی سے ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے یہ معلوم ہو کہ کسی فرد کا ذاتی ڈیٹا یا نجی طبی معلومات متاثر ہوئی ہیں۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ انہوں نے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین سے بات کرکے واقعے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کمپنی کی جانب سے آسٹریلوی حکومت کو واقعے سے آگاہ کرنے میں تاخیر پر بھی تنقید کی۔

اوپن اے آئی کے مطابق کمپنی کو واقعے کا علم اگست میں ہوا تھا، تاہم آسٹریلوی حکومت کو 10 ستمبر کو آگاہ کیا گیا۔ کمپنی نے اس حوالے سے پبلک سروسز آسٹریلیا کو ای میل کے ذریعے اطلاع دی تھی۔

انتھونی البانیز نے واقعے سے متعلق اطلاع دینے کے طریقہ کار کو ناقابل قبول اور مایوس کن قرار دیا۔

اے آئی ماڈلز کی جانب سے ٹیسٹنگ کے دوران مختلف کمپنیوں کے سرورز تک رسائی حاصل کرنے کے واقعات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں، تاہم آسٹریلوی حکومتی نظام سے متعلق یہ واقعہ اے آئی ایجنٹس کے خودکار طور پر حساس نظاموں تک پہنچنے کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں