انتھروپک اپنے ہر ملازم پر ماہانہ اوسطاً ایک لاکھ 7 ہزار ڈالر خرچ کرتی ہے، رپورٹ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف امریکی کمپنی انتھروپک اپنے ملازمین پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہے، کمپنی کی مالی دستاویزات کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ہر ملازم پر اوسط ماہانہ خرچ تقریباً ایک لاکھ 7 ہزار ڈالر رہا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انتھروپک نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) میں جمع کرائی گئی دستاویز میں ملازمین پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔

دستاویز کے مطابق کمپنی نے جولائی سے ستمبر 2026 کے تین ماہ کے دوران ملازمین پر ایک ارب 71 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ کیے، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ اخراجات 48 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھے۔

کمپنی میں تقریباً 5 ہزار 300 افراد کام کرتے ہیں۔ اس حساب سے تین ماہ کے دوران فی ملازم اوسط خرچ تقریباً 3 لاکھ 22 ہزار ڈالر بنتا ہے، جو ماہانہ تقریباً ایک لاکھ 7 ہزار ڈالر کے برابر ہے۔

تاہم اس رقم کو ملازمین کی براہ راست ماہانہ تنخواہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس میں بونس، مراعات، پے رول ٹیکس اور حصص کی صورت میں دیے جانے والے انعامات بھی شامل ہیں۔

دستاویز کے مطابق مجموعی اخراجات میں سے تقریباً ایک ارب 10 کروڑ ڈالر حصص پر مبنی انعامات کی مد میں خرچ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران انتھروپک نے اپنی مجموعی آمدنی کا تقریباً 15 فیصد ملازمین پر خرچ کیا، جبکہ اس عرصے میں کمپنی کی آمدنی 4 ارب 80 کروڑ ڈالر رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق انتھروپک کی فی ملازم اوسط آمدنی تقریباً 66 لاکھ ڈالر ماہانہ بتائی گئی ہے، جبکہ میٹا کے لیے یہ شرح تقریباً 32 لاکھ ڈالر اور گوگل کے لیے 25 لاکھ ڈالر ہے۔

انتھروپک نے ملازمین کی انفرادی تنخواہوں کی تفصیلات عام نہیں کیں، تاہم مالی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپنے ماہرین اور ملازمین کے معاوضوں اور مراعات پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انتھروپک مستقبل میں اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کی تیاری کر رہی ہے اور اس کا ہدف تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کی مالیت کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہونا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں