ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسا سفید بونا ستارہ (وائٹ ڈوارف) دریافت کیا ہے جو انسانی آنکھ کو سبز دکھائی دے سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس ستارے کی غیر معمولی رنگت اس کی بیرونی تہوں میں موجود عناصر اور ان کی مخصوص طبعی خصوصیات سے متعلق ہے۔
ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے وائٹ ڈوارف ستاروں کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے ستاروں کی نشاندہی کی جن کی رنگت عام ستاروں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
وائٹ ڈوارف ستاروں کے رنگ مختلف کیوں ہوتے ہیں؟
ماہرینِ فلکیات کے مطابق وائٹ ڈوارف دراصل سورج جیسے ستاروں کی باقیات ہوتے ہیں، جو اپنی بیرونی تہیں خارج کرنے کے بعد انتہائی کثیف شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
عام طور پر ستاروں کی رنگت ان کے درجہ حرارت سے متاثر ہوتی ہے اور وہ سفید، نیلے یا نارنجی دکھائی دے سکتے ہیں۔ تاہم بعض وائٹ ڈوارف ستاروں کی فضا میں موجود عناصر اور غیر معمولی طبعی حالات ان کے نوری طیف (اسپیکٹرم) میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کرسکتے ہیں، جس سے ان کی ظاہری رنگت مختلف ہوسکتی ہے۔
سبز ستارے میں کون سے عناصر موجود ہیں؟
تحقیق کے مطابق ماہرینِ فلکیات ہولینڈز اور ان کے ساتھیوں نے زمین سے 20 پارسیک، یعنی تقریباً 65 نوری سال کے فاصلے کے اندر موجود 151 معلوم وائٹ ڈوارف ستاروں کا تجزیہ کیا۔
ہولینڈز کے مطابق سبز دکھائی دینے والے ستارے میں کیلشیم، سوڈیم اور لیتھیم جیسے عناصر کی موجودگی اس کی غیر معمولی خصوصیات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تحقیق میں ایک اور وائٹ ڈوارف ستارے کا بھی ذکر کیا گیا، جس کی رنگت کاربن کے مالیکیولز کی زیادہ مقدار کے باعث گلابی مائل نارنجی، یعنی ’سالمن پنک‘ دکھائی دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت وائٹ ڈوارف ستاروں کی فضا، ان میں موجود کیمیائی عناصر اور روشنی کے باہمی تعامل کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔




