چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی میں ملازمین کو ملنے والے معاوضوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، لندن دفتر میں کام کرنے والے ہر فرد کو گزشتہ سال اوسطاً 23 لاکھ پاؤنڈ سے زائد تنخواہ اور حصص کی مد میں دیے گئے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے کے لیے اوپن اے آئی غیرمعمولی مالی وسائل خرچ کر رہی ہے، جبکہ کمپنی کے ملازمین کے معاوضے بھی حیران کن حد تک زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی یوکے لمیٹڈ کے مالیاتی حسابات کے مطابق لندن دفتر میں تقریباً 110 افراد کام کرتے ہیں، جنہیں گزشتہ سال تنخواہوں کی مد میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ جبکہ حصص کی صورت میں 16 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ دیے گئے۔
اس طرح فی ملازم اوسط معاوضہ 23 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ بنتا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 85 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق اوپن اے آئی کے ملازمین کا اوسط معاوضہ برطانیہ میں کل وقتی ملازمین کی آمدن سے تقریباً 58 گنا زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کا ایک ملازم اوسطاً ہر گھنٹے تنخواہ اور حصص کی شکل میں ایک ہزار پاؤنڈ کماتا ہے، تاہم کمپنی میں ملازمین کے معاوضوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز تیار کرنے والے محققین کو نسبتاً زیادہ مالیاتی پیکجز دیے جاتے ہیں، جبکہ دیگر ملازمین کے معاوضے ان کے عہدے اور ذمہ داریوں کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
اوپن اے آئی نے ان اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
اوپن اے آئی یوکے کے کاروبار میں بھی نمایاں اضافہ
رپورٹ کے مطابق 2025 میں اوپن اے آئی یوکے لمیٹڈ کے کاروباری حجم میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کمپنی کے مالیاتی حسابات کے مطابق اس کا کاروباری ٹرن اوور تین گنا بڑھ کر 29 کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ ہوگیا، جبکہ اسی عرصے کے دوران کمپنی نے 2 کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ منافع کمایا۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی مسابقت بڑھنے کے ساتھ ماہرین کی طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہے، جس کے باعث بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں باصلاحیت محققین اور انجینئرز کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے پرکشش مالیاتی پیکجز پیش کر رہی ہیں۔




