امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا چین کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے یہ وضاحت چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔
ایک امریکی عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ایک اور امریکی عہدیدار کے مطابق چین کو امریکی اسلحہ فروخت کرنا قانوناً ممنوع ہے اور اس حوالے سے نہ کوئی منصوبہ بنایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی پیشکش کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے اتوار کو نشر ہونے والے ’فاکس نیوز‘ کے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت پر چین کے تحفظات کے جواب میں چینی صدر کو امریکی اسلحہ خریدنے کی پیشکش کی تھی۔
ڈیوڈ پرڈیو کے مطابق گزشتہ ہفتے چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ امریکا کے دوران بھی یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ دنیا بھر میں امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی بات کرتے ہیں اور انہوں نے ایک موقع پر شی جن پنگ سے بھی پوچھا تھا کہ کیا چین امریکی اسلحہ خریدنا چاہتا ہے۔
امریکی سفیر نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ جب بھی ملاقات کرتے ہیں تو اس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے۔
تاہم ڈیوڈ پرڈیو نے مبینہ پیشکش کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمانوں نے بھی اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران ایسی کوئی پیشکش کی تھی یا یہ بات کسی سابقہ ملاقات میں ہوئی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق شی جن پنگ نے دورہ امریکا کے دوران ایک بار پھر صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر احتیاط سے کام لیں۔ چینی صدر نے امریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی واضح طور پر مخالفت کرے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




