ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 600 سالہ تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے لیے ہٹانے کے معاملے پر پولیس اور مقامی مسلمانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 2028 میں ہونے والے ہندوؤں کے مذہبی میلے ’سمہاستھا کمبھ‘ سے قبل سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت مسجد کے کچھ حصے کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
مسجد کے تحفظ کے لیے مقامی مسلمان کئی روز سے مسجد کے اندر دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ حکام پیر کی صبح ایک بار پھر بلڈوزر لے کر مسجد پہنچے تو مقامی افراد اور پولیس کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جبکہ اس دوران پولیس اور مقامی افراد کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مسجد کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان اتوار کی رات مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ سڑک کی توسیع کے لیے مسجد کا تقریباً 3 فٹ حصہ ہٹایا جائے گا، جہاں نماز ادا نہیں کی جاتی۔
رپورٹس کے مطابق پیر کو فجر کی نماز کے بعد لوگ گھروں کو چلے گئے تھے تاہم صبح تقریباً 8 بجے حکام دوبارہ مسجد پہنچے۔ مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے رات کو طے پانے والے معاہدے کے برخلاف فوری کارروائی کی کوشش کی، جس کے بعد لوگ دوبارہ مسجد کے باہر جمع ہوگئے۔
مسجد کے مینار کے معاملے پر بھی فریقین کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔ مقامی افراد کے مطابق انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ مینار ہٹانے سے قبل اس کے پیچھے نیا مینار تعمیر کرنے کا وقت دیا جائے، تاہم انتظامیہ نے یہ تجویز مسترد کردی۔




