تمباکو نوشی کو متعدد دائمی بیماریوں کا سبب سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق میں اس عادت کا ایسا منفی اثر سامنے آیا ہے جس کے مطابق سگریٹ نوشی انسان کو تنہائی کا شکار بھی بنا سکتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج اسپین میں ہونے والی یورپی ریسپائریٹری سوسائٹی کی سالانہ کانگریس میں پیش کیے گئے۔
تحقیق میں 50 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ تمباکو نوشی کرنے والے اور اس عادت سے دور رہنے والے افراد خود کو کس حد تک تنہا محسوس کرتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے افراد کے خود کو دوسروں سے الگ تھلگ محسوس کرنے اور دوستوں کی کمی جیسے عوامل کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج میں سامنے آیا کہ عمر یا جنس سے قطع نظر تمباکو نوشی کرنے والے افراد خود کو سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ تنہا محسوس کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کے عادی افراد میں تنہائی کا احساس وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑھتا جاتا ہے، جبکہ یہ اثر معمر افراد میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ تمباکو نوشی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
تحقیق میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندیوں کے باعث سگریٹ نوش افراد کے لیے بعض سماجی سرگرمیوں کا حصہ بننا مشکل ہوسکتا ہے۔
محققین کے مطابق اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ تنہائی اور ناخوشی کا احساس صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت تنہائی کو صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دے چکا ہے اور اس کے منفی اثرات کو روزانہ 15 سگریٹ پینے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔




