برطانیہ میں جیل نیلز کے کیمیکل پر پابندی، کیا یہ بانجھ پن کا سبب بنتا ہے؟

برطانیہ نے جیل نیل مصنوعات میں استعمال ہونے والے ایک کیمیکل پر پابندیاں عائد کردی ہیں، جس کے بعد جیل مینیکیور کے صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔

برطانوی حکام نے ٹرائی میتھائل بینزوائل ڈائی فینائل فاسفین آکسائیڈ، جسے مختصراً ٹی پی او کہا جاتا ہے، کے استعمال پر نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ یہ کیمیکل بعض جیل نیل مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے تاکہ یو وی یا ایل ای ڈی لیمپ کی روشنی میں جیل جلد سخت ہوسکے۔

تاہم ماہرین کے مطابق اسے مکمل طور پر ’’جیل نیل پر پابندی‘‘ قرار دینا درست نہیں۔ پابندی بنیادی طور پر ان نئی کاسمیٹک مصنوعات پر ہے جن میں ٹی پی او شامل ہو، جبکہ مزید سخت پابندیاں فروری 2027 سے نافذ ہونے کی توقع ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کولکتہ کی نووا آئی وی ایف فرٹیلٹی کی ماہر ڈاکٹر روچی جین نے بتایا کہ تشویش جیل مینیکیور کے بجائے مخصوص کیمیکل ٹی پی او سے متعلق ہے۔

ان کے مطابق تحقیق میں ٹی پی او کو ممکنہ طور پر تولیدی صحت کے لیے نقصان دہ مادہ قرار دیا گیا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں اس کی زیادہ مقدار کے استعمال سے اسپرم کی تعداد اور تولیدی صلاحیت میں کمی جبکہ خواتین کے تولیدی نظام پر بھی اثرات کے شواہد سامنے آئے۔

تاہم ماہر نے واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جیل مینیکیور کروانے والی ہر خاتون بانجھ پن کا شکار ہوجائے گی۔

ڈاکٹر روچی جین کے مطابق عام صارف کو جیل مینیکیور کے دوران ٹی پی او کی مقدار نسبتاً کم ملتی ہے، جبکہ لیبارٹری تحقیق میں اس سے کہیں زیادہ مقدار استعمال کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار جیل نیل پالش استعمال کرنے سے انسانوں میں بانجھ پن ہونے کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تشویش ان افراد کے لیے ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اس کیمیکل کے ساتھ کام کرتے ہیں، خصوصاً نیل سیلون میں کام کرنے والے ٹیکنیشنز۔ ایسے افراد کے لیے مناسب وینٹی لیشن، دستانوں اور محفوظ مصنوعات کا استعمال ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی پی او کے علاوہ بعض جیل نیل مصنوعات میں ایکریلیٹس اور میتھاکریلیٹس بھی شامل ہوتے ہیں، جو جلد پر الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس الرجی کی علامات میں ناخنوں کے گرد سرخی، خارش، انگلیوں میں سوجن یا درد، جلد کا پھٹنا، چھالے بننا اور بعض اوقات ہاتھوں، چہرے یا گردن تک الرجی پھیلنا شامل ہے۔

یورپی یونین نے ستمبر 2025 میں ٹی پی او کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ برطانیہ کی جانب سے بھی پابندیوں کا مقصد ممکنہ صحت کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹی پی او پر پابندی کا مطلب یہ نہیں کہ جیل مینیکیور بذاتِ خود غیر محفوظ ہے، تاہم صارفین کو ایسی مصنوعات کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیے جن میں یہ کیمیکل شامل نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں