امریکی ریاست ٹینیسی میں تین دہائیوں قبل اپنی ہم جماعت کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی خاتون کرسٹا پائیک سزا پر عملدرآمد کے دوران زہر کا انجکشن دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کرسٹا پائیک کو بدھ کی رات نیش وِل کے ریوربینڈ میکسیمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں زہر کا انجکشن دے کر موت کی سزا پر عملدرآمد کی کوشش کی گئی، تاہم یہ عمل کامیاب نہ ہوسکا۔
جیل حکام کے مطابق یہ کوشش ناکام ہونے کے بعد ٹینیسی میں دو صدیوں سے زائد عرصے میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی پہلی کوشش بھی ناکام ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق اس عمل کے بعد کرسٹا پائیک کی طبی حالت کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ انہیں طبی امداد کے لیے منتقل کیے جانے کے بعد ان کے وکلا یا ریاست کی جانب سے آئندہ کیا قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
کرسٹا پائیک کے وکلا اور انسانی حقوق کے ماہرین سزائے موت کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ جرم کے وقت پائیک کم عمر تھیں، بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنی تھیں اور انہیں مناسب ذہنی صحت کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
جیل حکام نے ایک بیان میں کہا کہ سزائے موت پر عملدرآمد کے دوران اٹارنی جنرل کے دفتر سے منظور شدہ قانونی پروٹوکول کے تمام مراحل پر مکمل عمل کیا گیا۔
بیان کے مطابق پروٹوکول میں استعمال ہونے والا زہر کا انجکشن مؤثر رہا ہے اور موجودہ طریقہ کار میں اس صورتحال کے بعد کسی اضافی کارروائی کی اجازت نہیں ہے۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے پیر کو کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔ ناکام عملدرآمد کے بعد انہوں نے رواں سال ریاست میں ہونے والی تمام سزائے موت پر پابندی عائد کردی ہے۔
یہ واقعہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے نچلی عدالت کا وہ حکم امتناع ختم کیے جانے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا، جس کے ذریعے آخری لمحات میں سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا۔
کرسٹا پائیک ٹینیسی میں 200 سال سے زائد عرصے میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ وہ جدید امریکی تاریخ میں ٹینیسی کی ایسی واحد سزائے موت کی قیدی بھی تھیں جنہیں نوعمری میں کیے گئے جرم پر سزائے موت دی جانی تھی۔
واضح رہے کہ رواں سال ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی یہ دوسری ناکام کوشش ہے۔ اس سے قبل مئی میں بھی جیل حکام ایک قیدی کو مناسب رگ نہ ملنے کے باعث زہر کا انجکشن دینے میں ناکام رہے تھے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




