برطانیہ میں پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق 2020 کے بعد سے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بڑھ چکی ہے۔
میک ملن کینسر سپورٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ہر سال 68 ہزار سے زائد مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، جو اوسطاً ہر 8 منٹ میں ایک نئے کیس کے برابر ہے۔
چیریٹی کے اعداد و شمار اور محتاط اندازوں کے مطابق تقریباً 6 سال قبل برطانیہ میں پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 6 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پروسٹیٹ کینسر برطانیہ میں مردوں میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے۔
میک ملن کینسر سپورٹ کے طبی مشیر ڈاکٹر انتھونی کنلف نے کہا کہ پروسٹیٹ کینسر ابتدائی مرحلے میں اکثر واضح علامات ظاہر نہیں کرتا، اس لیے جسم میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں جی پی سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق بعض مردوں میں بیماری کئی برس تک بغیر علامات کے موجود رہ سکتی ہے، تاہم پروسٹیٹ کے بڑھنے سے پیشاب کی نالی پر دباؤ پڑنے کے بعد علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔
پروسٹیٹ کینسر کی عام علامات میں پیشاب کرنے میں دشواری، پیشاب کے معمول سے زیادہ بار آنا اور پیشاب کی حاجت محسوس ہونا شامل ہیں۔




