مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور میدان بننے سے روکنا ہوگا: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ہتھیاروں کی دوڑ کا ایک اور میدان بننے سے روکنا ہوگا، جبکہ اے آئی کے ڈیزائن، ترقی اور استعمال کے تمام مراحل میں انسانی فیصلہ سازی اور کنٹرول برقرار رہنا چاہیے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ’مصنوعی ذہانت اور عالمی سلامتی‘ کے موضوع پر پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ فوجی شعبے میں غلط اندازوں اور مختصر وقت میں فیصلوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کیلئے احتیاط اور اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے نام پر ٹیکنالوجی تک رسائی محدود نہیں ہونی چاہیے اور اے آئی کی حفاظت کے نام پر ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں جو ٹیکنالوجی سے محرومی کا باعث بنیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کیلئے اقوام متحدہ کے تحت جامع، نمائندہ اور سب کی شرکت پر مبنی فورمز ضروری ہیں۔

نائب وزیراعظم نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے پہلے گلوبل ڈائیلاگ آن اے آئی گورننس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، عالمی اے آئی تقسیم ختم کرنے اور ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کیلئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تک مساوی رسائی امن اور ترقی کیلئے ضروری ہے، جبکہ پاکستان ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کا بانی رکن بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں