لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما مبشر اعوان کی نظربندی کے خلاف درخواست نمٹادی، جبکہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے مبشر اعوان کی والدہ کی جانب سے دائر نظربندی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس اکبر ڈوگر نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سے استفسار کیا کہ نظربندی کا نوٹیفکیشن کس قانونی طریقہ کار کے تحت جاری کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے قانونی تقاضے کیوں پورے نہیں کیے گئے؟
ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ مبشر اعوان کی نظربندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر نظربندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے پولیس کی رپورٹ پر ہی فیصلہ کیا اور اپنا ذہن استعمال کیوں نہیں کیا؟
عدالت کی برہمی پر ڈپٹی کمشنر نے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ انہوں نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو مبشر اعوان کی رہائی کی ہدایت کردی گئی ہے۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ کی روشنی میں مبشر اعوان کی والدہ کی درخواست نمٹادی۔




