گھر یا گاڑی کی پرکشش آفرز، سوشل میڈیا پر فراڈ کا انکشاف

کراچی: سوشل میڈیا پر گھر اور گاڑیوں کی پرکشش آفرز کے نام پر شہریوں سے مبینہ فراڈ کا سلسلہ جاری ہے، متعدد افراد لاکھوں روپے سے محروم ہوگئے۔

جیو نیوز کے نمائندے کو ایسے متعدد شہریوں کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر گاڑی یا گھر کی آسان اقساط اور کم ڈاؤن پیمنٹ سے متعلق اشتہارات دیکھ کر متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کیا۔

گزری تھانے میں مقدمہ درج کرانے والے سید طحہٰ نواز نے بتایا کہ اپنی گاڑی خریدنے کیلئے سوشل میڈیا پر ایک پرکشش اشتہار دیکھ کر وہ ڈیفنس میں قائم کمپنی کے دفتر گئے۔

ان کے مطابق کمپنی نے ان کی پسند کی استعمال شدہ گاڑی کی تفصیلات لینے کے بعد 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ پر گاڑی فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ فرضی قیمت کا 20 فیصد وصول کرکے اسٹامپ پیپر پر معاہدہ کرایا گیا اور 2 گارنٹرز بھی لیے گئے۔

سید طحہٰ نواز کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ 6 روز میں کیس منظور کرکے گاڑی فراہم کردی جائے گی، تاہم 5 روز بعد پیغام موصول ہوا کہ گارنٹر کے ڈیفالٹر ہونے کے باعث ان کا کیس ریفنڈ میں بھیج دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دفتر پہنچنے پر معاہدے کی ایک شق دکھا کر بتایا گیا کہ رقم 3 ماہ بعد واپس کی جائے گی، جس کے بعد وہ کئی ماہ تک رقم کی واپسی کیلئے دفاتر کے چکر لگاتے رہے، تاہم رقم واپس نہیں ملی۔

سید طحہٰ نواز نے واقعے کا مقدمہ گزری تھانے میں درج کرایا۔ ان کے مطابق بعض افراد کو پولیس نے گرفتار کیا، تاہم کچھ کو چھوڑ دیا گیا جبکہ بعض نے ضمانت حاصل کرلی۔
متاثرین کا دعویٰ ہے کہ کچھ عرصے بعد انہی افراد نے گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا اور دیگر علاقوں میں نئے دفاتر قائم کرکے سوشل میڈیا پر اسی نوعیت کے اشتہارات کے ذریعے شہریوں سے رابطے شروع کردیے۔

جیو نیوز کے نمائندے کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سمیر سے ساڑھے 4 لاکھ، عبدالمعین سے 4 لاکھ، راشد سے 2 لاکھ 15 ہزار، چنگیز سے ایک لاکھ 20 ہزار، جمشید علی سے ساڑھے 3 لاکھ، فوزیہ جہاں سے ساڑھے 3 لاکھ، فصیح سے ایک لاکھ 60 ہزار، بلال سے 2 لاکھ 70 ہزار، ونیش سے ساڑھے 5 لاکھ، عدنان اقبال سے ایک لاکھ 30 ہزار جبکہ عمران سے 6 لاکھ 40 ہزار روپے وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق محمد وسیم، حافظ مرتضیٰ، مدیحہ انصاری اور شیان عرف احمد اس مبینہ گروہ کے مرکزی کردار ہیں اور ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گروہ مبینہ طور پر نام تبدیل کرکے پرکشش ناموں سے جعلی کمپنیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بناتا ہے، جبکہ کراچی سمیت مختلف شہروں میں دفاتر قائم کیے جاتے ہیں۔ فراڈ سامنے آنے کے بعد کمپنی کے نام اور دفتر کا مقام تبدیل کردیا جاتا ہے۔

متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسی پرکشش آفرز کے ذریعے شہریوں سے رقم وصول کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ مزید افراد کو مالی نقصان سے بچایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں