مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی حادی پتنگ نے سرکاری افسران کی پوسٹنگ، تبادلوں اور دیگر سرکاری امور کے لیے بھاری رقوم وصول کیں اور مبینہ طور پر اربوں روپے کمانے کے بعد ملک سے فرار ہوگئے۔
اسلام آباد: ثمر ہارون بلور نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حادی پتنگ نے سرکاری پوسٹنگز، تبادلوں اور مختلف سرکاری کاموں کے لیے باقاعدہ ریٹ لسٹ مقرر کر رکھی تھی، جس کے تحت مبینہ طور پر کروڑوں روپے وصول کیے جاتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر دو ہفتے بعد افسران کے تبادلے کیے جاتے تھے اور ہر تبادلے کے عوض کروڑوں روپے وصول کیے گئے۔ ان کے بقول اس طریقہ کار کے ذریعے اربوں روپے کمائے گئے اور بعدازاں حادی پتنگ ملک سے فرار ہوگئے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ حادی پتنگ کی واپسی کے لیے متعلقہ ملک کی حکومت اور انٹرپول سے رابطے کیے گئے ہیں، جبکہ مبینہ طور پر ملک سے باہر منتقل کی گئی دولت واپس لانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
مشیر اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف سرکاری محکموں میں مالی بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ٹی ایم ایز، جامعات اور اسپتالوں کے پاس ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز کی کمی ہے، جبکہ نرسنگ اسٹاف اور پروفیسرز کی تنخواہوں کے لیے بھی وسائل دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت اور مائننگ سمیت مختلف محکموں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور ہر محکمے کے مشیر کو اپنی سطح پر تحقیقات مکمل کرکے نتائج عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، ثمر ہارون بلور
ایک سوال کے جواب میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آبادی کو نشانہ بنانے کا جواب دس گنا شدت سے دیا جائے گا اور مخالفین اس کے لیے تیار رہیں۔




