ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست تسلیم کرلی، ایران جنگ کو بڑی وجہ قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ناکامی میں ایران تنازع کے کردار کا اعتراف کیا ہے۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جن کے مطابق ڈیموکریٹک امیدواروں کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن امیدواروں پر برتری حاصل ہے۔

ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج تسلیم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود انتخابی بیلٹ پر موجود نہیں تھے، اگر ایسا ہوتا تو ریپبلکن پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی۔

ایران تنازع کے انتخابی نتائج پر اثرات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی میں ناکامی کی ایک وجہ ایران جنگ بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے امریکی عوام پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آنے والے قلیل مدتی معاشی اثرات برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور ممکن ہے دونوں جماعتیں بعض معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ امیگریشن کے معاملے پر بھی تعاون کرسکتے ہیں، تاہم اگر ڈیموکریٹس کی جانب سے کوئی غیر مناسب قانون سازی کی گئی تو وہ اسے ویٹو کردیں گے۔
کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ اپنی کابینہ میں کوئی ردوبدل کریں گے۔

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج

امریکی ایوان نمائندگان کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کو 190 جبکہ ریپبلکنز کو 110 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔

435 ارکان پر مشتمل ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو 17 نشستوں پر برتری حاصل ہونے کے بعد ان کی مجموعی تعداد 51 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکنز کو 8 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور ان کی مجموعی تعداد 39 بتائی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ 100 ارکان پر مشتمل ہے اور ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے کم از کم 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں