انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے حالیہ بورڈ اجلاس میں دنیا بھر میں کرکٹ کی گورننس، رکنیت اور رکن ممالک سے متعلق متعدد اہم اور دور رس فیصلے کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے اہم ترین فیصلے اور تفصیلات درج ذیل ہیں
گورننس اور فرنچائز کرکٹ کے لیے نئی کمیٹیوں کا قیام
آئی سی سی نے کھیل کے انتظامی امور اور دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی فرنچائز لیگز کو مانیٹر کرنے کے لیے دو اہم کمیٹیاں تشکیل دی ہیں:
گورننس ریویو کمیٹی: آئی سی سی کے مجموعی گورننس نظام کا جائزہ لینے کے لیے قائم اس کمیٹی کے چیئرمین دیواجیت سائیکیاہوں گے، جبکہ ڈاکٹر موسی جی اور ڈاکٹر روز ریواج بھی اس کے ارکان میں شامل ہیں۔
فرنچائز لیگ کمیٹی:
دنیا بھر میں فرنچائز کرکٹ لیگز کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی اس کمیٹی کی سربراہی بنگلہ دیش کے سابق کپتان تمیم اقبال کریں گے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر روڈی وین وورن، دیواجیت سائیکیا، رچرڈ گولڈ اور ٹوڈ گرین برگ شامل ہیں۔کرکٹ کی عالمی سطح پر ترویج کے لیے بورڈ نے ماریشس کو آئی سی سی کا 111واں رکن بنانے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
رکن ممالک کے لیے مالیاتی اور انتظامی فیصلے
آئی سی سی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کی مالی معاونت کے لیے 1 کروڑ 28 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کے قرض کی منظوری دی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ:بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نو منتخب صدر کو آئی سی سی نے باضابطہ طور پر ‘فل ممبر ڈائریکٹر’ تسلیم کر لیا ہے۔
سری لنکا کرکٹ کو تنبیہ
آئی سی سی نے سری لنکا کرکٹ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بورڈ کے معطل شدہ جمہوری عمل کو بحال کرنے کے لیے جلد از جلد انتخابات کا انعقاد کرائے۔
معطلی اور خلاف ورزیوں پر ایکشن
کرکٹ کینیڈا: کینیڈین بورڈ کی بحالی کے لیے شرائط کی منظوری تو دی گئی ہے، تاہم فی الحال ان کی معطلی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فرانس کرکٹ کو نوٹس:آئی سی سی نے فرانسیسی کرکٹ بورڈ کو رکنیت کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔




