نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلاب، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر 13 سے 15 اگست تک پیشگی الرٹ جاری کردیا۔
این ای او سی کے مطابق اس دوران بالائی علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے، جس کے باعث دریاؤں کے بالائی ملحقہ علاقوں، برساتی ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں برساتی اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق خیبر پختونخوا میں چترال، سوات، شانگلہ، بٹگرام، اپر و لوئر دیر، کوہستان اور ایبٹ آباد سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ مانسہرہ، ہری پور، باجوڑ، بونیر، کرم، اورکزئی، مردان، صوابی اور نوشہرہ میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔
آزاد کشمیر میں حویلی، پونچھ اور سدھنوتی جبکہ گلگت بلتستان میں کھرمنگ، غانچے، گلگت، نگر، ہنزہ، دیامر، غذر، گوپس یاسین اور استور میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان کے پہاڑی علاقوں اور برساتی نالوں میں بھی بارشوں کے باعث طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق بلوچستان میں موسیٰ خیل، بارکھان، خضدار اور ڈیرہ بگٹی کے پہاڑی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے، جبکہ پنجاب میں مری، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔
الرٹ کے مطابق 13 سے 15 اگست کے دوران پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض شہری علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
دریاؤں کی صورتحال کے حوالے سے این ای او سی نے بتایا کہ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقامات پر کم درجے کے بہاؤ کا امکان ہے، جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور دریائے چناب میں مرالہ اور خانکی کے مقامات پر بھی کم درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔
این ای او سی نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر متعلقہ اداروں اور شہریوں کو محتاط رہنے اور صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔




