جنگل میں پھنسے افراد نے روحوں کے خوف سے امدادی ٹیموں کو جواب نہ دیا

چین میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جہاں پہاڑی جنگل میں پھنسے دو افراد نے امدادی ٹیموں کی آوازیں سننے کے باوجود خوف اور توہم پرستی کے باعث انہیں جواب دینے سے گریز کیا۔

چین کے ضلع ہوائرو (Huairou) میں پولیس اور فائر فائٹرز کو 29 جولائی کی رات ایک اطلاع موصول ہوئی کہ قریبی گاؤں سے تعلق رکھنے والے 2 افراد پہاڑی علاقے میں جڑی بوٹیاں تلاش کرتے ہوئے لاپتا ہوگئے ہیں۔

لاپتا ہونے والوں میں 73 سالہ شخص اور 58 سالہ خاتون شامل تھے، جو اکثر ایک ساتھ جڑی بوٹیاں جمع کرنے کے لیے پہاڑی علاقے میں جاتے تھے۔

مقامی حکام کے مطابق پہاڑی علاقے میں موبائل سگنل دستیاب نہ ہونے کے باعث دونوں افراد موبائل فون بھی اپنے ساتھ نہیں لے گئے تھے، جبکہ ان کے پاس خوراک اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔

امدادی ٹیموں نے رات بھر تلاش کا سلسلہ جاری رکھا اور تقریباً 17 گھنٹے کی کوششوں کے بعد دونوں افراد کو تلاش کرلیا۔ اس وقت تک وہ تقریباً 30 گھنٹوں سے پہاڑی علاقے میں پھنسے ہوئے تھے اور شدید تھکن کا شکار ہوچکے تھے۔

تاہم ریسکیو اہلکار اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں معلوم ہوا کہ دونوں افراد نے امدادی ٹیموں کی آوازیں کافی دیر پہلے سن لی تھیں، لیکن جان بوجھ کر کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

دونوں نے بتایا کہ وہ اس یقین کی وجہ سے خاموش رہے کہ پہاڑوں میں اگر کوئی شخص اپنا نام لے کر پکارے تو اس کا جواب نہیں دینا چاہیے۔

چینی لوک کہانیوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ پہاڑی روحیں انسانوں کی جانی پہچانی آوازوں کی نقل کرکے گمشدہ افراد کو پکارتی ہیں اور ان کے جواب دینے سے وہ مزید خطرے میں پھنس سکتے ہیں۔

اسی خوف کے باعث دونوں افراد نے امدادی ٹیموں کی آوازیں سننے کے بعد جواب دینے کے بجائے مخالف سمت میں چلنا شروع کردیا، جس سے انہیں تلاش کرنے میں مزید کئی گھنٹے لگ گئے۔

بالآخر دونوں نے اس وقت امدادی ٹیموں کو جواب دیا جب ریسکیو اہلکار پہاڑی کے نچلے حصے تک پہنچ گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ آوازیں امدادی کارکنوں کی ہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں