ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کو خطے کا ایک بڑا ملک اور انتہائی اہم کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب مشترکہ کوششوں سے خطے میں پائیدار امن و استحکام قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمیشہ سے سعودی عرب کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا رہا ہے۔امریکی قیادت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اور ایرانی سپریم لیڈر کے مابین ملاقات کی باتیں بالکل غیر حقیقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ حقیقت کی دنیا سے دور، ایک خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں اور ان کے دعووں کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے ملک کی اندرونی قیادت کے حوالے سے اہم تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت مکمل اختیارات کے ساتھ ایران کی قیادت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رہبرِ انقلاب کے ساتھ ان کا مسلسل اور براہِ راست رابطہ قائم ہے اور ان کی جانب سے ملنے والی تمام ہدایات فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچائی جا رہی ہیں۔خطے کی کشیدہ صورتحال اور جنگ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے زور دیا کہ جنگ بندی کا اطلاق محض کسی ایک جگہ نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر یکساں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ایران خطے میں کسی قسم کی جنگ کا خواہاں نہیں ہے، تاہم اگر ایران پر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا انتہائی فیصلہ کن اور دندان شکن جواب دیا جائے گا۔حالیہ سیکیورٹی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ 28 فروری کو ہونے والے حملے کے وقت وہ خود سپریم لیڈر کے دفتر میں موجود تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس حملے کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کی صورتحال سے متعلق تقریباً دو روز تک غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہی تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای مکمل اختیارات کے ساتھ ایران کی قیادت کر رہے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ کا انکشاف
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




