غزہ… جہاں انسانیت روز مر رہی ہے

تحریر: فیصل علی

رات کے گہرے اندھیرے میں ایک چھوٹی سی آواز کانپتی ہوئی پوچھتی ہے
امی… کیا میں بھی انسان ہوں؟یہ آواز غزہ کی مٹی سے اٹھتی ہے۔ وہاں جہاں بچے ملبے کے نیچے دبے پڑے ہیں، جہاں مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو سینے سے لگائے بیٹھی ہیں، جہاں باپ اپنے بچوں کی لاشیں کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں اور دنیا خاموش تماشا دیکھ رہی ہے۔
انسانی حقوق؟ کاغذ پر لکھے ہوئے خوبصورت الفاظ۔ اقوام متحدہ کے منشور کی چمکتی سطور۔ مگر غزہ میں یہ الفاظ مر چکے ہیں۔ یہاں صرف ایک سچائی باقی ہے… خون، آنسو، اور خاموشی جو کانوں میں گونجتی ہے۔
ایک ماں اپنے چار ماہ کے بچے کو دودھ پلاتے ہوئے بم کی آواز سنتی ہے۔ وہ بچے کو سینے سے چمٹاتی ہے اور آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ اگلے لمحے سب کچھ ختم۔ نہ گھر، نہ بچہ، نہ ماں۔ صرف ایک چھوٹا سا جوتا ملبے میں پڑا رہ جاتا ہے. جو کبھی کسی معصوم کے قدموں میں تھا۔ کیا یہ انسانی حقوق ہیں؟
جب ہسپتال پر بم گراتے ہیں، جب پانی بند کر دیتے ہیں، جب بھوک کو ہتھیار بنا لیتے ہیں، جب لاکھوں انسانوں کو ایک تنگ پٹی میں قید کر کے ان کی سانسوں کا شمار کرتے ہیں. تب کیا باقی رہ جاتا ہے انسانیت کا؟
ہم بیٹھے ہیں اپنے آرام دہ گھروں میں۔ فون پر غزہ کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، آنکھوں میں پانی آتا ہے، ایک پوسٹ شیئر کرتے ہیں، اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگلی ریل، اگلی خبر، اگلا کھانا۔ مگر غزہ میں رات نہیں گزرتی۔ وہاں ہر رات قیامت ہوتی ہے۔
میں نے دیکھا ہے وہ آنکھیں… جن میں خوف نہیں، صرف تھکن ہے۔ وہ بچے جو اب روتے بھی نہیں۔ کیونکہ رونا بھی اب بے کار ہو چکا ہے۔ وہ بوڑھے جن کے ہاتھ کانپتے ہیں مگر وہ ملبہ ہٹاتے رہتے ہیں، شاید کوئی سانس ابھی باقی ہو۔
انسانی حقوق کا عالمی منشور کہتا ہے: ہر انسان کو زندگی کا حق ہے۔
غزہ پوچھتا ہے: پھر ہم کیوں مر رہے ہیں؟
منشور کہتا ہے: کسی کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
غزہ چیختا ہے: پھر ہمارے جسم کیوں جل رہے ہیں؟
منشور کہتا ہے: بچوں کو تحفظ دیا جائے گا۔
غزہ خاموشی سے دکھاتا ہے… ہزاروں چھوٹی چھوٹی قبریں۔
تو آج، اس لمحے، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کریں…
وعدہ کریں کہ ہم غزہ کے ان چھوٹے چھوٹے جوتوں کو نہیں بھولیں گے جو ملبے میں پڑے رہ گئے۔
وعدہ کریں کہ جب تک غزہ کی مٹی پر ایک بھی معصوم سانس لے رہا ہے، ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔
کیونکہ اگر آج ہم نے ان کی آواز نہیں بنی…
تو کل ہمارے اپنے بچے پوچھیں گے:
کیا انسانیت مر چکی تھی جب غزہ جل رہا تھا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں