امریکی عسکری قیادت کا ایران جنگ طول دینے پر اظہار تشویش، پینٹاگون کو خبردار کردیا

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق خفیہ رپورٹ سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان سمیت یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا میں امریکی آپریشنز کی نگرانی کرنے والے فور اسٹار کمانڈرز نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تحفظات 14 اگست کو جاری ہونے والی خفیہ ’سیکرٹری آف ڈیفنس آرڈرز بک‘ (SDOB) میں شامل کیے گئے ہیں۔ یہ دستاویز عام طور پر ماہ میں دو مرتبہ تیار کی جاتی ہے، جس میں دنیا بھر میں امریکی جنگی جہازوں، طیاروں، فوجی اہلکاروں اور دیگر جنگی سازوسامان کی دستیابی سے متعلق تفصیلات درج ہوتی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 14 اگست کی آرڈرز بک میں مشرق وسطیٰ میں تعینات بعض امریکی فوجیوں کو ستمبر تک جبکہ کچھ اہلکاروں کو 2027 تک خطے میں موجود رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک فوجی تعیناتی کے امکان پر امریکی عسکری قیادت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی یورپی کمانڈ، پیسیفک کمانڈ اور سدرن کمانڈ کے سربراہان سمیت امریکی بحریہ کے سینیئر ترین ایڈمرل نے ان احکامات پر تکنیکی طور پر ’عدم اتفاق‘ کیا ہے۔

عسکری اصطلاح میں ’عدم اتفاق‘ کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ کمانڈرز سیکرٹری دفاع کے فیصلے سے متفق نہیں، تاہم فوجی نظم و ضبط کے تحت وہ احکامات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقائی کمانڈرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران تنازع کے باعث ان کے بحری جہاز، طیارے اور دیگر جنگی وسائل متعلقہ خطوں سے مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں، جس سے معمول کے فوجی مشنز کی انجام دہی اور اہلکاروں کی مناسب تربیت متاثر ہورہی ہے۔

امریکی بحریہ کو بھی جنگی ضروریات پوری کرنے کے باعث اضافی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ آرمی اور ایئر فورس کی قیادت نے سیکرٹری دفاع کے فیصلے سے اصولی اتفاق کے باوجود فورسز کی تعیناتی میں توسیع سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات کی نشاندہی کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی عسکری قیادت کا مجموعی تاثر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران جنگ اب حد سے زیادہ طویل اور وسائل پر بھاری پڑ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ جنگ کو امریکا کے لیے سازگار شرائط پر ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایران بھی اس صورتحال سے آگاہ ہے کہ طویل جنگ امریکی عوام میں غیر مقبولیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکا کے ہتھیاروں کے ذخائر پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں