ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے 6 شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری ذوالقدر کی جانب سے جاری بیان میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے امریکا کے سامنے متعدد مطالبات رکھے گئے۔
بیان کے مطابق امریکا کسی بھی وقت اور کسی بھی زبان میں ایران کو دھمکیاں نہ دے، ایرانی قوم کی توہین سے گریز کرے اور ایران اور اس کے اتحادیوں پر مسلط کی گئی جنگ کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے مطالبہ کیا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے اور امریکی افواج کو ایران کے اطراف سے ہٹایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا بغیر کسی کٹوتی کے مکمل ازالہ کیا جائے، ایرانی قوم پر عائد غیر منصفانہ اور غیر قانونی پابندیاں ختم کی جائیں اور ایرانی عوام کے منجمد یا چرائے گئے اثاثے غیر مشروط طور پر جاری کیے جائیں۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کا کہنا تھا کہ جنگ ہو یا مذاکرات، ایران اپنے مؤقف اور ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں عارضی جہاز رانی کے راستے کے حوالے سے ایران عمان کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک نیا راستہ تیار کر لیا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا فیصلہ دیگر عوامل سے مشروط ہے اور امریکا کو مفاہمت کی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔
ان کے بقول موجودہ صورتحال امریکا کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔




