متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے غیر متعدی امراض اور موٹاپے کی روک تھام کے لیے پیک شدہ غذاؤں میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقدار کی حد مقرر کردی۔
اماراتی وزارت صحت کے مطابق نئی غذائی پابندیوں کا مقصد غذائی معیار کو بہتر بنانا اور شہریوں کو صحت مند خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
وزارت صحت کے بیان کے مطابق نئی پابندیوں کا اطلاق متحدہ عرب امارات میں تیار ہونے والی اور درآمد کی جانے والی پیک شدہ غذاؤں پر ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ غذائی مصنوعات میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقررہ مقدار میں کمی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا، جس پر مکمل عملدرآمد 31 دسمبر 2030 تک ہوگا۔
بیان کے مطابق ڈبل روٹی میں سوڈیم، چینی اور چکنائی کی مقدار مرحلہ وار کم کی جائے گی، جبکہ فلیٹ بریڈ میں بھی نمک، چینی اور چکنائی کی مقررہ حد مزید کم کی جائے گی۔
اسی طرح میٹھے دہی اور لسی میں مقررہ حد سے زیادہ چینی کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
اماراتی حکام کے مطابق نمکین بسکٹ، پراسیسڈ میووں اور پریٹزلز میں سوڈیم کی مقدار کم کرنا ہوگی، جبکہ آلو، سبزیوں اور اناج سے تیار کیے جانے والے نمکین اسنیکس میں بھی نمک کی مقدار مقررہ حد کے مطابق رکھنا ہوگی۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ نمک، چینی اور چکنائی کی مقررہ حد سے زیادہ مقدار استعمال کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزارت صحت کے مطابق نئی پابندیوں کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 5 لاکھ درہم تک جرمانہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ بعض خلاف ورزیوں پر کاروبار کو 6 ماہ تک بند کرنے کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں کمپنی کا لائسنس بھی منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




