یونیسیف کا سیکسٹورشن کے شکار بچوں اور نوجوانوں کیلئے سوشل میڈیا سروس کا آغاز

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن جنسی بلیک میلنگ اور سیکسٹورشن سے بچانے اور متاثرین کو مدد فراہم کرنے کیلئے سوشل میڈیا سروس شروع کردی۔

یونیسیف کے مطابق جنسی بلیک میلنگ یا سیکسٹورشن بچوں اور نوجوانوں کیلئے ایک بڑھتا ہوا آن لائن خطرہ ہے، جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ایپس پر سامنے آرہا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ سیکسٹورشن میں مجرم جنسی نوعیت کی چیٹس، تصاویر یا ویڈیوز جاری کرنے کی دھمکی دے کر متاثرہ فرد سے مزید جنسی مواد یا رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔

یونیسیف کے مطابق سیکسٹنگ کے دوران شیئر کی گئی تصاویر یا ویڈیوز بھی بعد میں بلیک میلنگ کیلئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ بعض معاملات میں مجرم کوئی اجنبی نہیں بلکہ دوست، سابق پارٹنر یا جاننے والا شخص بھی ہوسکتا ہے۔

یونیسیف ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھی حقیقی تصاویر کے بغیر جعلی برہنہ تصاویر تیار کرکے نوجوانوں کو بلیک میل کیا جاسکتا ہے، جس سے آن لائن جنسی استحصال کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

ادارے کے مطابق سیکسٹورشن کا شکار ہونے والے نوجوان اکثر خوف، شرمندگی اور ذہنی دباؤ کے باعث خاموش رہتے ہیں، اس لیے والدین اور سرپرستوں کا بچوں سے کھل کر بات کرنا اور انہیں یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ مدد طلب کرنے پر انہیں سزا نہیں دی جائے گی۔

یونیسیف نے والدین اور نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ سیکسٹورشن کا واقعہ پیش آنے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ پولیس، اسکول یا چائلڈ ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔

اس کے علاوہ آن لائن موجود تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کیلئے ”Take It Down” جیسی مفت سروسز سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

یونیسیف کے مطابق بچوں کو آن لائن خطرات سے آگاہ کرنا اور والدین کا ان کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنا سیکسٹورشن سے بچاؤ کیلئے اہم اقدامات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں