وزیراعظم کا پیٹرول ریلیف پیکیج مسترد، یہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل نہیں: لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے وزیراعظم کی جانب سے 100 روپے فی لیٹر پیٹرول ریلیف پیکیج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

اسلام آباد میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان آئی پی پیز اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق تکنیکی مذاکرات ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے مذاکرات کے دوران بریفنگ دی۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے وزیراعظم کے پیٹرول ریلیف پیکیج کو مسترد کردیا ہے اور حکومت پر واضح کردیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی ختم ہونے کی صورت میں عوام کو پیٹرول پر 103 روپے فی لیٹر تک ریلیف مل سکتا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم کے اعلان کردہ ریلیف پیکیج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دھوکا ہے۔

لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ حکومت کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ وزیراعظم کو آگاہ کریں کہ جماعت اسلامی کا مارچ اسلام آباد کی جانب بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے حکومت کا مکمل مؤقف پیش کیا ہے۔

لیاقت بلوچ کے مطابق مذاکرات میں یہ تسلیم کیا گیا کہ جماعت اسلامی کے گزشتہ احتجاج کے نتیجے میں 54 آئی پی پیز سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے ملک کے مختلف شہروں میں جاری ہیں، جبکہ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں