ایک تازہ سروے میں 91 فیصد پاکستانیوں نے ملک میں کاروبار کرنا مشکل قرار دیتے ہوئے کاروباری ماحول پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آئی پور کے سروے کے مطابق کاروبار کرنے میں مشکلات کی سب سے بڑی وجہ پیچیدہ ٹیکس نظام قرار دی گئی، جس کی شکایت 46 فیصد افراد نے کی۔
سروے میں 19 فیصد پاکستانیوں نے قرضوں تک رسائی نہ ملنے کو کاروبار میں بڑی رکاوٹ قرار دیا، جبکہ 12 فیصد نے کرپشن کو کاروباری مشکلات کی وجہ بتایا۔
اسی طرح 10 فیصد افراد نے بجلی اور گیس کی بڑھتی قیمتوں، 7 فیصد نے حکومتی قوانین جبکہ 2 فیصد نے سیاسی عدم استحکام کو کاروبار کے لیے مشکلات کا باعث قرار دیا۔
سروے کے مطابق 76 فیصد پاکستانیوں نے حکومت سے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید قانون سازی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب 66 فیصد پاکستانیوں نے ملک پر قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا۔
سروے میں پاکستانیوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اہم ہے؟
اس سوال کے جواب میں 30 فیصد افراد نے آئی ایم ایف پروگرام کو نقصان دہ قرار دیا، جبکہ 19 فیصد نے اسے فائدہ مند قرار دیا۔
سروے میں 38 فیصد پاکستانیوں کی رائے تھی کہ آئی ایم ایف پروگرام سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔
سروے کے نتائج کے مطابق پیچیدہ ٹیکس نظام، قرضوں تک محدود رسائی، کرپشن، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور حکومتی قوانین ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے نمایاں رکاوٹیں ہیں۔




