امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر ایک اور حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم اگر نئی کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو یہ مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں، اسرائیل اور مغربی ممالک کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کو نہ روکا گیا تو وہ پہلے اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کو نقصان پہنچائے گا، جس کے بعد یورپ اور امریکی شہروں کے لیے بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق حالیہ امریکی فضائی کارروائیوں کے دوران ایرانی فوجی سازوسامان اور بنیادی فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے ریڈار اور میزائل نظام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کررہا تھا، جبکہ ایک ایسے راکٹ کی تیاری بھی کی جارہی تھی جو سمندر یا زمین پر بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اسے امریکی حملے میں تباہ کردیا گیا۔
’اسرائیلیوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں‘
دوسری جانب اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اسرائیلی شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ چونکہ وہ امریکا کے صدر ہیں، اس لیے وہ خود اسرائیل کا خیال رکھیں گے۔
امریکا اور ایران میں کشیدگی میں اضافہ
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران کی جانب سے اردن، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کی جانب میزائل داغے گئے۔
میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالات ان کے مکمل کنٹرول میں ہیں اور اگر نئی کارروائی شروع کی گئی تو اسے جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




