اسلام آباد پولیس نے تمام افسران اور اہلکاروں کے لیے نئی سوشل میڈیا پالیسی جاری کردی، جس کے تحت پولیس کے تمام رینکس کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق اہلکاروں کے یونیفارم میں ویڈیوز بنانے اور تصاویر کھنچوانے پر بھی پابندی ہوگی۔
نئی پالیسی کے تحت ذاتی تشہیر، شہرت یا گلیمر کے لیے پولیس یونیفارم استعمال کرنا بھی سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری گاڑیوں، دفاتر یا نجی مقامات پر یونیفارم میں ویڈیوز بنانے پر کارروائی کی جائے گی۔
اسی طرح بغیر اجازت میڈیا کو بیان دینے، عوامی فورمز پر اظہار خیال کرنے اور آرٹیکل لکھنے پر بھی پابندی ہوگی۔
پالیسی کے مطابق پولیس اہلکار سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی سیاسی یا مذہبی نظریات کا اظہار نہیں کرسکیں گے، جبکہ کسی بھی محکمانہ یا خفیہ دستاویز، تصویر یا دیگر معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پولیس کے مثبت اقدامات اور سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کے لیے بھی ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز سے پیشگی منظوری لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق محکمانہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات صرف سی پی او کی پبلک ریلیشنز برانچ کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔
نئی پالیسی کے تحت یونٹ سربراہان اپنے ماتحت عملے کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔
پولیس حکام کے مطابق سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
نئی سوشل میڈیا پالیسی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، جس کی منظوری آئی جی اسلام آباد نے دے دی ہے۔




