چمن میں 4 سالہ بچی سے مبینہ شادی کا کیس، 60 سالہ شخص افغانستان فرار

چمن میں 4 سالہ بچی سے مبینہ شادی کے کیس میں 60 سالہ شخص افغانستان فرار ہوگیا، جبکہ پولیس نے بچی کے والد اور ملزم کے بھائی کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق 4 سالہ بچی کے مبینہ نکاح کے معاملے کی تحقیقات کے دوران 7 ستمبر کو قتل ہونے والی اس کی 14 سالہ بہن کے قتل کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 14 سالہ بچی کے قتل کے الزام میں اس کے شوہر کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے، جو 4 سالہ بچی سے مبینہ نکاح کرنے والے 60 سالہ شخص کا بیٹا ہے۔

گرفتار بچی کے والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا کہ اس کی 14 سالہ بیٹی شکریہ بی بی کو سسرال میں مبینہ طور پر تشدد کا سامنا تھا اور اس پر ایک اور کمسن بیٹی کا رشتہ دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔

والد کے مطابق گزشتہ ماہ 4 سالہ بیٹی کا رشتہ 60 سالہ صلاح الدین سے 25 لاکھ روپے کے عوض طے کیا گیا تھا، تاہم رقم کی ادائیگی سے قبل صلاح الدین نے 4 سالہ بچی کے بجائے 8 سالہ بیٹی کا رشتہ مانگ لیا۔

والد کا الزام ہے کہ رشتہ دینے سے انکار پر 7 ستمبر کو کچلاک میں شادی شدہ 14 سالہ بیٹی شکریہ بی بی کو مبینہ طور پر تشدد کرکے قتل کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق 4 سالہ بچی سے مبینہ نکاح اور 14 سالہ بچی کے قتل کے واقعات میں مزید کون کون ملوث ہے، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کمسن بچی کے تحفظ اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں