گرین لینڈ کی سیکیورٹی پر امریکا کو مستقل کنٹرول حاصل ہوگا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کی سیکیورٹی اور دیگر ضروریات پر مستقل کنٹرول حاصل ہوگا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے، جس سے امریکا کے گرین لینڈ سے متعلق تمام خدشات دور ہوجائیں گے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ میں اپنی اور جزیرے کی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی مستقل آزادی حاصل ہوگی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر امریکا کو کوئی اخراجات برداشت نہیں کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی واضح تحریری منظوری کے بغیر کوئی مخالف ملک گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم، فوجی موجودگی برقرار یا حساس نوعیت کی سرمایہ کاری نہیں کرسکے گا۔

گرین لینڈ میں بڑی امریکی فوجی موجودگی کا اعلان

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا فوری طور پر گرین لینڈ کے موزوں علاقوں میں بڑی فوجی موجودگی قائم کرنے کا عمل شروع کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں فوجی موجودگی کی توسیع اور تعمیر کے لیے وہاں کے عوام کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے کہاکہ گزشتہ 100 سال سے زائد عرصے کے دوران امریکی صدور گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت سے آگاہ رہے ہیں، تاہم کوئی بھی اس معاملے کو حل نہیں کرسکا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ ایسے صدر ہیں جنہوں نے اس انتہائی اہم معاملے کو مستقل اور فیصلہ کن انداز میں حل کردیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکا، ڈنمارک، گرین لینڈ اور تمام اتحادیوں کے لیے ایک بہترین حل ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ اور ڈنمارک کے عوام کے ساتھ مل کر اس وسیع اور انتہائی اسٹریٹجک خطے کے حوالے سے ایک شاندار مستقبل کی جانب بڑھنے کا منتظر ہے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کی خودمختاری برقرار رہے گی

دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ نے معاہدے کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدہ ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کے مطابق معاہدے پر آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط متوقع ہیں، تاہم اسے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جزیرے کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی، جبکہ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کا کہنا ہے کہ معاہدہ مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں