حوثیوں کے حملے، پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت سعودی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے: ترک وزیر خارجہ

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کو بعض عسکری ضروریات درپیش ہوسکتی ہیں، جن کا پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت جائزہ لیا جائے گا۔

حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقین تک تجاویز پہنچا دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا حصہ بنانا ناقابل قبول ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کا بحران اب معاشی طور پر ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکی نے یوکرین اور روس کو بحیرہ اسود میں لڑائی ختم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

مصر کی سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

دوسری جانب مصر نے سعودی دارالحکومت ریاض پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے حملے خطے میں خطرناک کشیدگی میں اضافے اور علاقائی عدم استحکام کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

قاہرہ نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

مصر نے سعودی عرب کی جانب سے اپنی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور مصر کی سلامتی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

اردن کی جانب سے بھی حوثی حملے کی مذمت

ادھر اردن نے بھی ریاض کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے کی مذمت کی ہے، جسے سعودی فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کردیا تھا۔

اردن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں طائف اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔

اردن نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھانے والی کارروائیوں سے گریز پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں