ڈارک میٹر کی تلاش میں سائنسدانوں کو ممکنہ اہم سراغ مل گیا

امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں زمین کی گہرائی میں کیے گئے ایک تجربے کے دوران سائنسدانوں نے ایسے ذرے کا ممکنہ اشارہ ریکارڈ کیا ہے جو ڈارک میٹر سے متعلق اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اسے حتمی دریافت قرار نہیں دیا گیا۔

ساؤتھ ڈکوٹا: کائنات کے پراسرار ترین رازوں میں شمار ہونے والے ڈارک میٹر کی تلاش میں سائنسدانوں کو ممکنہ طور پر اہم سراغ مل گیا ہے۔

یہ تجربہ امریکا کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کے بلیک ہلز علاقے میں ایک پرانی سونے کی کان کے اندر قائم سینفورڈ انڈر گراؤنڈ ریسرچ فیسیلٹی میں کیا گیا، جہاں زمین سے تقریباً ایک اعشاریہ 6 کلومیٹر نیچے سائنسدان ڈارک میٹر کے انتہائی نایاب ذرات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس منصوبے کو ’لکس زیپلن‘ (LZ) کا نام دیا گیا ہے، جس کا انتظام امریکی محکمہ توانائی کی لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کے پاس ہے۔

ڈارک میٹر کے امیدوار ذرے کا ممکنہ اشارہ

تجربے کے دوران سائنسدانوں نے ایک ایسے واقعے کا مشاہدہ کیا جس میں ایک پراسرار ذرہ مائع زینان کے ایٹمی مرکزے سے ٹکرایا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں الٹرا وائلٹ روشنی کی انتہائی مدھم چمک پیدا ہوئی اور ایٹمی مرکزے میں معمولی حرکت ریکارڈ کی گئی۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ تعامل ’ویمپ‘ (WIMP) نامی فرضی ذرے کے متوقع رویے سے مطابقت رکھتا ہے۔ ویمپ کو ڈارک میٹر کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ صرف ایک واقعے کی بنیاد پر ڈارک میٹر کی دریافت کا اعلان نہیں کیا جاسکتا اور مزید شواہد درکار ہوں گے۔

کائنات کا بیشتر مادہ اب بھی پراسرار

سائنسدانوں کے مطابق عام مادہ، جس سے ستارے، سیارے، انسان اور دیگر دکھائی دینے والی اشیا بنی ہیں، کائنات کے مجموعی مادے کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے، جبکہ باقی بڑا حصہ ڈارک میٹر سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔

ڈارک میٹر نہ روشنی خارج کرتا ہے اور نہ اسے منعکس کرتا ہے، اسی لیے اسے براہِ راست دیکھنا ممکن نہیں۔ اس کے باوجود سائنسدان اس کے وجود کے مضبوط شواہد رکھتے ہیں کیونکہ اس کی کششِ ثقل کہکشاؤں اور کائناتی ساخت پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔

ڈارک میٹر کو بعض ماہرین ایک ایسے ’کائناتی گوند‘ سے تشبیہ دیتے ہیں جو کہکشاؤں کی تشکیل اور انہیں ایک ساتھ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حتمی نتیجے کے لیے مزید تحقیق ضروری

یونیورسٹی آف برسٹل کے ذراتی طبیعیات دان اور تحقیق کے اہم مصنف سیم ایرکسن کے مطابق یہ مشاہدہ ڈارک میٹر کی براہِ راست تلاش میں پہلا ممکنہ اشارہ ہوسکتا ہے، تاہم ایک ہی واقعے کی بنیاد پر حتمی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یو سی ایل اے سے وابستہ نجمی طبیعیات دان اور تحقیق کی شریک مصنفہ الوین کاماہا نے بھی کہا کہ ڈارک میٹر کے ذرات ممکنہ طور پر ہر سیکنڈ میں بڑی تعداد میں انسانی جسموں سے گزر سکتے ہیں، لیکن وہ عام مادے کے ساتھ انتہائی کم تعامل کرتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل اس مشاہدے کی دیگر ممکنہ سائنسی توجیہات کو خارج کرنا ضروری ہے۔

ڈارک میٹر کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے تحقیق جاری ہے۔ سائنسدان کہکشاؤں پر کششِ ثقل کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹیکل ایکسلریٹرز میں ممکنہ ذرات پیدا کرنے اور زمین کے انتہائی گہرائی میں قائم تجربہ گاہوں میں ان کے نایاب تعاملات ریکارڈ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب سائنسدان لکس زیپلن کے اس مشاہدے کا مزید باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ واقعی ڈارک میٹر کی تلاش میں ایک تاریخی پیش رفت ہے یا پھر کسی اور سائنسی مظہر کا اشارہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں