دنیا کا سب سے گہرا غار: زمین کے اندر 2 ہزار میٹر سے زائد گہرائی میں پراسرار دنیا

قفقاز کے پہاڑی سلسلے کے نیچے موجود ویریوو کینا غار 2 ہزار 212 میٹر سے زائد گہرائی تک پھیلا ہوا ہے، جہاں مکمل تاریکی، انتہائی کم درجہ حرارت اور منفرد جاندار ایک حیران کن زیرِ زمین دنیا تشکیل دیتے ہیں۔

ویسے تو دنیا بھر میں ہزاروں غاریں موجود ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا سب سے گہرا غار کہاں واقع ہے؟

مغربی قفقاز کے گاگرا پہاڑی سلسلے کے نیچے چونے کے پتھر میں بنا غاروں کا ایک وسیع اور پیچیدہ نظام موجود ہے، جو زمین کی سطح سے 2 ہزار میٹر سے بھی زیادہ گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔

اس زیرِ زمین دنیا میں موجود ویریوو کینا (Veryovkina Cave) کو جنوری 2026 میں دنیا کا گہرا ترین غار قرار دیا گیا، جس کی ریکارڈ شدہ گہرائی 2 ہزار 212 میٹر ہے، جبکہ اسی خطے میں موجود کروبیرا غار کی گہرائی 2 ہزار 199 میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

دنیا کی گہری ترین غاروں میں مقابلہ

ویریوو کینا اور کروبیرا دونوں ہی دنیا کے گہرے ترین غاروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی گہرائی کی پیمائش میں وقتاً فوقتاً تبدیلی آتی رہی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرینِ غار شناسی کے درمیان دنیا کے سب سے گہرے غار کے ریکارڈ کے حوالے سے مسلسل دلچسپی برقرار ہے۔
ویریوو کینا مغربی قفقاز کے گاگرا پہاڑی سلسلے کے نیچے واقع ہے، جو جارجیا کے متنازع خطے ابخازیا میں شامل ہے۔

غار کے اندر چونے کے پتھر سے بنی سرنگوں اور راستوں کا وسیع نظام موجود ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر برطانیہ کے مشہور پہاڑ بین نیوس کو الٹا کرکے اس غار میں رکھا جائے تو بھی کافی جگہ باقی رہ سکتی ہے۔

زیرِ زمین انتہائی سخت ماحول

جیسے جیسے انسان ان غاروں کی گہرائی میں اترتا ہے، ماحول مزید تاریک اور دشوار ہوتا جاتا ہے۔ گہرائی میں سورج کی روشنی بالکل نہیں پہنچتی جبکہ درجہ حرارت بھی انتہائی کم رہتا ہے اور بعض مقامات پر بمشکل 3 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرتا ہے۔

اس مکمل تاریکی میں رہنے والے جاندار بھی سطحِ زمین پر پائے جانے والے جانوروں سے مختلف خصوصیات رکھتے ہیں۔

کئی زیرِ زمین جانداروں کی آنکھیں نہیں ہوتیں، جبکہ بعض کے لمبے انٹینا یا باریک بال ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے اردگرد کی ہلکی سے ہلکی حرکت اور ارتعاش کو محسوس کرتے ہیں۔
کروڑوں سال میں بننے والی زیرِ زمین دنیا

ویریوو کینا اور کروبیرا دونوں ایسے خطے میں واقع ہیں جہاں چونے کے پتھر کی چٹانوں میں پانی کے مسلسل بہاؤ نے طویل عرصے کے دوران غاروں اور زیرِ زمین راستوں کو تشکیل دیا۔

سائنسدانوں کے مطابق اس خطے میں انتہائی گہری غاروں کی موجودگی کی ایک بڑی وجہ یہاں موجود چونے کے پتھر کی ساخت اور چٹانوں کی ترتیب ہے۔

چٹانیں اس انداز میں موجود ہیں کہ بارش اور زیرِ زمین پانی کو گہرائی کی جانب راستہ ملتا رہا، جس کے نتیجے میں لاکھوں سال کے دوران پانی نے چٹانوں کو گھِساتے ہوئے وسیع اور گہرے غاروں کا نظام تشکیل دیا۔

ویریوو کینا کا نام کیسے پڑا؟

ویریوو کینا کو 1968 میں دریافت کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اسے S-115 کا نام دیا گیا۔

بعد ازاں 1986 میں غاروں کی کھوج کرنے والے ماہر الیگزینڈر ویرو کین کے نام پر اسے ویریوو کینا کا نام دیا گیا۔
آج یہ غار صرف گہرائی کے اعتبار سے ہی اہم نہیں بلکہ زیرِ زمین ماحول، چٹانوں کی تشکیل اور انتہائی تاریکی میں زندگی کے ارتقا پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے لیے بھی ایک غیر معمولی قدرتی تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں