خبردار کرتے ہیں، قومی اسمبلی بھی سندھ کی تقسیم پر بات نہیں کرسکتی: مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، قومی اسمبلی کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کرسکتی۔

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پیپلز پارٹی کی تحریک التوا پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی، جس کے بعد سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔

قرارداد پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے پیش کی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں، فیصلہ سندھ میں ہونا ہے اور اس سے واضح ہوجائے گا کہ کون سندھ کے ساتھ کھڑا ہے اور کون دوغلا پن کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں، ماضی میں ون یونٹ کے قیام کے معاملے پر بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا تھا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز پر ہونے والی گفتگو تشویش کا باعث ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لاہور میں ایک پروگرام کے دوران ’دی سسٹم ہیز کولیپسڈ‘ کہا گیا اور اس پر تالیاں بجائی گئیں، سوال یہ ہے کہ کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کریں گے؟

’یہ دوغلا پن ہے‘

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ وہ انتظامی یونٹس چاہتے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی میں کہتے ہیں کہ سندھ تقسیم نہیں ہونا چاہیے، یہ دوغلا پن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم والے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں، ان میں سے ایک بھی انتخاب جیت کر ایوان میں نہیں آیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر یہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوتے تو شاید ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی، ان ارکان میں سے کسی ایک نے بھی عوام کے ووٹ سے کامیابی حاصل نہیں کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان ارکان کے انتخاب سے متعلق تفصیلات مناسب وقت پر سامنے رکھی جاسکتی ہیں، بعض ارکان براہ راست انتخاب کے بجائے مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچے۔

’بات گورننس کی ہے تو انتظامی اصلاحات کی جائیں‘

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث پر مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف آبادی کو بنیاد بنا کر نئے صوبوں کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مسئلہ گورننس کا ہے تو اسے بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے معاملے پر تفصیلی بحث ضرور ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی امور کو سندھ کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے، ضرورت پڑنے پر سندھ میں مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بنائے جاسکتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے قانون میں مزید ترامیم لانے پر بھی کام جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں