امریکی اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں موجود بعض امریکی فوجیوں اور فوجی یونٹس کی تعیناتی 2027 تک بڑھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری تنازع کے طویل ہونے کے خدشات کے درمیان امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات بعض امریکی فوجی یونٹس کی مدت 2027 تک بڑھا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی علامت سمجھا جارہا ہے کہ امریکی انتظامیہ خطے میں فوجی آپریشنز کے طویل ہونے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔
امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی برقرار رکھنا ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مختلف فوجی اور سفارتی آپشنز کھلے رکھے جاسکیں۔
دوسری جانب ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون کے بعض احکامات کے تحت مشرق وسطیٰ میں تعینات کچھ امریکی فوجی ستمبر تک جبکہ بعض یونٹس 2027 تک خطے میں رہ سکتے ہیں۔
ٹرمپ جنگ کے خاتمے پر غور کررہے ہیں
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے امکان پر بھی مشاورت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ذاتی طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے کے حق میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایران پر اقتصادی دباؤ کے ذریعے تہران کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
مڈٹرم انتخابات کا بھی دباؤ
امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ کے بعض معاونین نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کو مزید طول دینے سے آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ مڈٹرم انتخابات تک ایران کے خلاف جنگی صورتحال کو ممکنہ حد تک قابو میں رکھا جائے، جبکہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران پر اثرانداز ہونے کی کوشش جاری رہے۔
یوں ایک طرف امریکی قیادت جنگ ختم کرنے کے امکانات پر غور کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب پینٹاگون کی جانب سے فوجی تعیناتیوں میں توسیع خطے میں طویل المدتی فوجی موجودگی کی تیاری کی نشاندہی کررہی ہے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




