ہر سال 23 جولائی کو منایا جانے والا یہ دن سمندری حیات کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرتا ہے
تحریر: سلیم رمضان
سمندر صرف پانی کا وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ لاکھوں اقسام کی آبی حیات کا مسکن بھی ہیں۔ ان ہی میں وہیل اور ڈولفن ایسی مخلوقات ہیں جو نہ صرف اپنی جسامت اور ذہانت کی وجہ سے منفرد ہیں بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال 23 جولائی کو عالمی یوم وہیل اینڈ ڈولفن (World Whale and Dolphin Day) منایا جاتا ہے۔
اس دن کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ وہیل اور ڈولفن کا تحفظ صرف چند جانوروں کو بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے سمندری ماحول اور انسانی مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
عالمی دن کی اہمیت
1986 میں انٹرنیشنل وہیلنگ کمیشن (International Whaling Commission – IWC) نے تجارتی مقاصد کے لیے وہیل کے شکار پر پابندی عائد کی، جسے سمندری حیات کے تحفظ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ اس فیصلے کے بعد کئی اقسام کی وہیل کو تحفظ ملا، تاہم آج بھی مختلف خطوں میں غیر قانونی شکار، سمندری آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی ان کے وجود کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
وہیل سمندر کے لیے کیوں ضروری ہیں؟
ماہرین کے مطابق وہیل سمندری ماحولیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی موجودگی سمندر میں غذائی اجزا کی گردش کو بہتر بناتی ہے، جس سے فائٹوپلانکٹن کی افزائش ہوتی ہے۔
یہ ننھے سمندری پودے زمین کی مجموعی آکسیجن کا بڑا حصہ پیدا کرتے ہیں اور فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان وہیل کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قدرتی نظام کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔
وہیل اور ڈولفن کو کن خطرات کا سامنا ہے؟
اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک میں وہیل کے تجارتی شکار پر پابندی ہے، لیکن یہ مخلوقات اب بھی کئی سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔
ان میں سمندری آلودگی، پلاسٹک کا بڑھتا ہوا فضلہ، ماہی گیری کے جال میں پھنس جانا، بحری جہازوں سے ٹکراؤ، پانی کے اندر شور کی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی نمایاں خطرات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مسائل پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو کئی نایاب اقسام ہمیشہ کے لیے معدوم ہو سکتی ہیں۔
آسٹریلیا میں اہم عالمی اجلاس
وہیل کے تحفظ سے متعلق عالمی کوششوں کے سلسلے میں انٹرنیشنل وہیلنگ کمیشن (IWC) کا 70واں اجلاس رواں برس 27 ستمبر سے 2 اکتوبر تک آسٹریلیا کے شہر ہوبارٹ، تسمانیہ میں منعقد ہوگا۔
اس اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندے، سائنس دان اور ماہرین وہیل کے تحفظ، سائنسی تحقیق، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور مستقبل کی عالمی حکمت عملی پر غور کریں گے۔ ماہرین کی نظر میں یہ اجلاس عالمی سطح پر سمندری حیات کے تحفظ کے لیے اہم فیصلوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ہماری ذمہ داری
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ وہیل اور ڈولفن کا تحفظ صرف حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد اس میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
سمندروں میں پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا اور سمندری آلودگی کے خلاف شعور اجاگر کرنا ایسے اقدامات ہیں جو ان نایاب مخلوقات کے محفوظ مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




