فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات

فرانس میں مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے پیش نظر ملک بھر میں سکیورٹی سخت کرتے ہوئے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔

حکام کو خدشہ ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات دوبارہ پیش آسکتے ہیں، جس کے باعث مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

لیون میں پابندی کے باوجود مظاہرہ کرنے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

فرانس کے وزیر داخلہ کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے مختلف اقسام کے ہتھیار ضبط کیے، جبکہ 135 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

700 سے زائد مظاہروں کا اعلان

یلو ویسٹس تحریک، مزدور تنظیموں اور طلبہ کی جانب سے ملک بھر میں 700 سے زائد مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔

مارسیے میں احتجاج پر عائد پابندی واپس لیتے ہوئے مزدور تنظیموں کو ریلی نکالنے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ اسٹراسبرگ میں بھی مظاہرے شیڈول ہیں۔

دوسری جانب نینسی، میتز، بیزانسوں، بیلفور، روآن، لی آوور، ٹولون اور لیموژ سمیت کئی شہروں میں احتجاج پر پابندیاں برقرار ہیں۔

گزشتہ ہفتے پُرتشدد مظاہرے

گزشتہ ہفتے فرانس کے مختلف شہروں میں ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں کے دوران 3 ہزار سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا اور لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے تھے، جس کے بعد حکام نے امن و امان کی صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کردیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں