امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تجارتی اور مالی روابط رکھنے والے چینی بینکوں کے خلاف پابندیاں عائد کیے جانے کا عندیہ دے دیا۔
اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ آیا امریکا ایران سے متعلق لین دین کے معاملے پر چینی بینکوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنائے گا؟
ٹرمپ نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا، ’’کس نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر رہا؟‘‘ امریکی صدر نے مزید کہا کہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں یا نہیں، کیونکہ انہیں ہر فیصلے کا پیشگی اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے تاحال چین کے بڑے بینکوں پر ایران سے متعلق پابندیاں عائد نہیں کیں، تاہم امریکا پہلے ہی چین اور ہانگ کانگ میں متعدد کمپنیوں اور اداروں کو پابندیوں کا نشانہ بنا چکا ہے، جن پر ایران کی حکومت اور اس کی مسلح افواج کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی بینکوں کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کی امریکی کوششوں میں نمایاں شدت آسکتی ہے۔
چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص تیل کی تجارت نمایاں ہے۔ چینی مالیاتی ادارے ایران کے ساتھ تیل سمیت دیگر تجارتی لین دین کی ادائیگیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چینی بینکوں کو پابندیوں کا نشانہ بنانا امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے موجود معاشی کشیدگی میں بھی مزید اضافہ کرسکتا ہے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




