14 لاشیں دیکھ کر احساس ہوا ملک محفوظ نہیں، پمز واقعے پر سوالات اٹھ گئے: مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے پمز اسپتال کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو ہر صورت حل کرنا ہوگا، جب تک واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین نہیں ہوتا، دیگر معاملات پر بات آگے نہیں بڑھے گی۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پرسوں جب 14 لاشیں دیکھیں تو احساس ہوا کہ میں محفوظ نہیں ہوں، مجھے احساس ہوا کہ ملک محفوظ نہیں، یہ ایک غیر محفوظ ملک ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ خود حکومت کا حصہ ہیں اور آج تین انگلیاں ان کی طرف اٹھ رہی ہیں، کیونکہ کسی سیاست دان کے بچے پمز اسپتال نہیں جاتے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو معاشی اعداد و شمار سے زیادہ اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج سے غرض ہے۔ سماجی انصاف معاشرے میں تفریق ختم کرنے کے لیے ضروری ہے جبکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری ماحولیاتی تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں میں عام آدمی کے بچوں کے لیے بلاامتیاز بہترین سہولتیں ہونی چاہئیں۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو بہتر اور محفوظ زندگی فراہم کی جائے۔

پمز واقعے پر سوال اٹھاتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی، کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی اور نہ کسی فائر فائٹر کو آگ لگی، لیکن 14 بچے جل کر راکھ ہوگئے۔

وفاقی وزیر نے سوال کیا کہ کیا واقعے کے دوران سروس ڈلیوری ہوئی؟ وہاں موجود متعلقہ لوگ کہاں تھے؟

مصدق ملک نے واضح کیا کہ پمز واقعے کی ذمہ داری کا تعین اور معاملے کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ فکس کرنا ہوگا اور جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوتا، دیگر معاملات پر گفتگو آگے نہیں بڑھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں