’تجارت کے معاملے پر امریکا سے حالت جنگ میں ہیں‘، کینیڈین وزیراعظم کا امریکا پر جوابی ٹیرف کا اعلان

کینیڈا نے امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے 50 فیصد تجارتی ٹیرف کے جواب میں امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ امریکا سے درآمد ہونے والی اسٹیل، ڈیری مصنوعات، الیکٹرانکس، گھریلو آلات، زرعی آلات اور دیگر اشیا پر جوابی ٹیرف 8 ستمبر سے نافذ ہوگا۔

مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا امریکی ٹیرف کا ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ کی بنیاد پر جواب دے گا اور کینیڈین ورکرز، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

کینیڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک مشکل مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور تجارت کے معاملے پر دونوں ممالک ’جنگ‘ کی صورتحال میں ہیں۔

یہ اعلان امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ مذاکرات میں اتفاق نہ ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کردیا ہے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق امریکی ٹیرف کے جواب میں عائد کیے جانے والے نئے محصولات کا مقصد مقامی صنعتوں اور کاروباروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھنے سے طویل عرصے سے قائم امریکا، کینیڈا تجارتی تعلقات پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں