سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ عراق کی حکومت اور عوام کے ساتھ مضبوط اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، جبکہ حالیہ فضائی کارروائیاں عراقی ریاست یا عوام کے خلاف نہیں بلکہ مسلح ملیشیا گروپوں کے خلاف کی گئیں۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں کا مقصد صرف ان مسلح ملیشیا گروپوں کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا تھا جو سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔
سعودی عہدیدار کے مطابق ان ملیشیا گروپوں نے ماضی میں سعودی عرب کے اہم شہری مراکز، اقتصادی تنصیبات اور پیٹرولیم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس کے باعث دفاعی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ فضائی حملے صرف ملیشیا کے عسکری ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں تک محدود رہے، جبکہ سعودی عرب نے کارروائی سے قبل کئی ماہ تک انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔
سعودی حکام کا کہنا تھا کہ عراق میں سرگرم دہشت گرد ملیشیا نہ صرف سعودی عرب بلکہ عراق کے مفادات اور عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان کے بقول یہ گروہ عراقی سرزمین اور وسائل کو پڑوسی ممالک کے خلاف جارحانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 29 جولائی کو امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ فضائی کارروائی میں عراق میں مبینہ طور پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔




