سرجری اور ادویات کے بغیر 158 کلو وزن کم کرنے والے شخص کی حیران کن کہانی

امریکی ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ ہنری گوانزلو نے سرجری یا ادویات کے بغیر 158 کلوگرام سے زائد وزن کم کرکے اپنی زندگی مکمل طور پر بدل لی۔

ہنری گوانزلو کا وزن ایک وقت میں 254 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا، جبکہ کمر کا سائز 62 انچ ہوگیا تھا۔ بڑھتے ہوئے وزن کے باعث وہ اپنی تصاویر میں خود کو بھی پہچاننے میں مشکل محسوس کرنے لگے تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ اگر وزن کم نہ کیا تو کم عمری میں ہی موت کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ہنری کے مطابق وہ روزانہ اتنا کھانا منگواتے تھے جو 4 افراد کے خاندان کے لیے کافی ہوتا تھا اور زیادہ تر فاسٹ فوڈ استعمال کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے وزن کے باعث جوتے پہننا، مناسب کپڑے تلاش کرنا اور کچھ دیر کھڑے رہنا بھی مشکل ہوگیا تھا، جبکہ انہیں ہائی بلڈ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، جگر پر چربی، ہائی کولیسٹرول اور سینے میں تکلیف جیسے مسائل کا بھی سامنا تھا۔

نومبر 2019 میں وزن کم کرنے کا سفر شروع کیا

ہنری گوانزلو نے پہلے گیسٹرک بائی پاس سرجری کے بارے میں سوچا، تاہم بعد میں انہوں نے قدرتی طریقے سے وزن کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے نومبر 2019 میں وزن کم کرنے کے سفر کا آغاز کیا اور ایک ذاتی ٹرینر کی مدد سے تیار کیے گئے پروگرام پر عمل شروع کیا۔

ان کے مطابق گزشتہ 6 برسوں کے دوران وہ 158 کلوگرام سے زائد وزن کم کرنے میں کامیاب رہے اور آج بھی اسی پروگرام پر عمل کررہے ہیں۔

وزن کم ہونے کے بعد ان کی کمر کا سائز 60 سے کم ہو کر 34 انچ جبکہ جوتوں کا سائز 12 سے کم ہو کر 10 ہوگیا ہے۔

سادہ غذا اور روزانہ ورزش

ہنری اب زیادہ تر گھر کا سادہ کھانا استعمال کرتے ہیں، جس میں چکن، مچھلی، چاول اور سبزیاں شامل ہیں۔ ان کی غذا میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور وہ گزشتہ 4 برس سے تقریباً اسی طرز کی غذا استعمال کررہے ہیں۔

وہ ہفتے میں 4 دن وزن اٹھانے کی ورزش کرتے ہیں جبکہ روزانہ 4 سے 6 میل تک پیدل چلتے ہیں۔

ہنری گوانزلو کے مطابق وزن کم کرنے کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ہے اور اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص چلنے پھرنے کے قابل ہے تو وہ سرجری یا ادویات کے بغیر بھی اپنے جسمانی وزن میں کمی لانے کی کوشش کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں