امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اپنی مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں بنا سکتا، واشنگٹن کو اپنے قومی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ عسکری ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے حوالے سے اسرائیل امریکا کا اہم شراکت دار ہے، تاہم بعض معاملات میں واشنگٹن اسرائیل سے اختلاف بھی کرتا ہے۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکی مفادات کے لیے وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے اختلاف کرنے اور ضرورت پڑنے پر ان سے راستے الگ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ گزشتہ 40 برسوں میں ٹرمپ واحد ایسے صدر ہیں جو یہ کہنے کے لیے تیار رہے ہیں کہ اسرائیل ایک اچھا شراکت دار ہے، تاہم کسی مخصوص معاملے پر نیتن یاہو اور ان کی رائے مختلف ہوسکتی ہے یا نیتن یاہو کا مؤقف درست نہیں۔
انہوں نے امریکا اور نیٹو کے تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے ساتھ امریکا کے انتہائی اہم تعلقات اور شراکت داری ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ واشنگٹن اپنی یورپی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر نیٹو کے تابع کردے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ اسی طرح امریکا اپنی مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو بھی اسرائیل کے تابع نہیں ہونے دے سکتا۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات اب بھی مضبوط ہیں، امریکی سفیر
دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان تعلقات اب بھی مضبوط اور مستحکم ہیں۔
امریکی سفیر نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان انتہائی قریبی تعاون جاری ہے، جس کی مکمل نوعیت سے بعض اوقات لوگ واقف بھی نہیں ہوتے۔
امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کمی سے متعلق سوال پر مائیک ہکابی نے اس کی وجہ غلط معلومات کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ صرف اسرائیل کے مفاد میں نہیں بلکہ امریکا کے مفاد میں بھی ہے۔
مائیک ہکابی کے مطابق جب امریکا ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے تو واشنگٹن اسرائیل کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ امریکا کا دفاع کر رہا ہے۔

مصنف نے جامعہ گجرات سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے اخبار کیساتھ ڈیجیٹل صحافت سے منسلک ہیں۔




